الکسس کیرل کا تبصرہ
Urdu book, p. 21
By Maulana Wahiduddin Khan
کیفیاتی پہلو (qualitative aspect) کو کمیاتی پہلو (quantitative aspect) سے الگ کرنے کے معاملے کو الکس کیرل نے بظاہر ایک منفی واقعے کے طور پر بیان کیا ہے۔ لیکن اپنی حقیقت کے اعتبار سے یہی وہ واقعہ ہے، جو سائنس میں نئے انقلاب کا سبب بنا۔ اس علیحدگی (delinking) نے سائنسی تحقیق کے بند دروازے کو کھول دیا، جو فلسفہ کے زیر اثر سائنس پر بند پڑا ہوا تھا۔ اس کے بعد ہر سائنسی شعبہ، فزکس (physics)، فلکیات (astronomy)، کیمسٹری (chemistry)، وغیرہ، میں تحقیقات ہونے لگیں۔ ان تحقیقات کا براہ راست تعلق مذہب سے نہ تھا، مگر بالواسطہ طور پر وہ پوری طرح مذہب سے تعلق رکھتا تھا۔ اب یہ ہوا کہ سائنس کے شعبوں میں آزادانہ طور پر تحقیق ہونے لگی۔ اس طرح جو سائنسی دریافتیں ہوئیں، وہ بالواسطہ طور پر خدا کے وجود کو ثابت کرنے والی تھیں۔ عملی طور پر گلیلیوگلیلی کے اس طریقہ کار کا مطلب تھا— اشیا کے قابل مشاہدہ جز (observable aspect) کو اشیا کے ناقابل مشاہدہ جزء (unobservable aspect) سے الگ کردینا۔ اس سے پہلے اہل علم دونوں کو ایک دوسرے سے ڈی لنک (delink) نہیں کرسکتے تھے۔ وہ ناقابل مشاہدہ پہلو کی دریافت میں مشغول ہونے کی بنا پر قابلِ مشاہدہ پہلو کی دریافت سے محروم بنے ہوئے تھے۔ اب یہ ہوا کہ سارا فوکس چیزوں کے قابلِ مشاہدہ پہلو پر آگیا۔ اس طرح یہ ممکن ہوگیا کہ قابل مشاہدہ پہلو کو دریافت کرکے ناقابلِ مشاہدہ پہلو تک پہنچنا ممکن ہوجائے۔ دوسرے لفظوں میں یہ کہ علمی طور پر یہ ممکن ہوگیا کہ قابلِ مشاہدہ مخلوق کو دریافت کرکے ناقابل مشاہدہ خالق کی بالواسطہ معرفت حاصل کی جاسکے، یعنی وہ طریقہ جس کو استنباطی طریقہ (inferential method) کہا جاتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader