Urdu book · خدا کی دریافت

کائناتی وحدت

Urdu book, p. 230

By Maulana Wahiduddin Khan

دنیا کی ہر چیز ایٹم سے بنی ہے۔ ہر چیز اپنے آخری تجزیے میں ایٹموں کا مجموعہ ہے۔ مگر کیسا عجیب معجزہ ہے کہ کہیں ایٹموں کی ایک مقدار جمع ہوتی ہے تو سورج جیسا روشن کرہ بن جاتا ہے۔ دوسری جگہ یہی ایٹم جمع ہوتے ہیں تو وہ بہتے ہوئے پانی کی صورت میں رواں ہوجاتے ہیں۔ تیسری جگہ ایٹموں کا یہی مجموعہ لطیف ہواؤں کی صورت اختیار کرلیتا ہے۔ کسی اور جگہ یہی ایٹم زرخیز زمین کی صورت میں ڈھل جاتے ہیں۔ اسی طرح دنیا میں ان گنت چیزیں ہیں۔ سب کی ترکیب ایٹم سے ہوئی ہے۔ مگر سب کی نوعیت اور خاصیت جدا جدا ہے۔ اس قسم کی ایک معجزاتی کائنات اپنی بے شمار سرگرمیوں کے ساتھ انسان کی خدمت میں لگی ہوئی ہے۔ انسان کو اپنی زندگی کے لیے جو کچھ درکار ہے وہ بہت بڑے پیمانے پر دنیا میں جمع کر دیا گیا ہے، اور ہر روز جمع کیا جا رہا ہے۔ دنیا کو اپنے لیے قابل استعمال بنانے کی خاطر انسان کو خود جو کچھ کرنا ہے، وہ بہت تھوڑا ہے۔ کائناتی نظام کے تحت بے حساب مقدار میں قیمتی رزق پیدا کیا جاتا ہے۔ ہم اس میں صرف اتنا کرتے ہیں کہ اپنا ہاتھ اور منھ چلا کر اس کو اپنے پیٹ میں ڈال لیتے ہیں۔ اس کے بعد ہمارے ارادے کے بغیر خودکار فطری نظام کے تحت غذا ہمارے اندر تحلیل ہوتی ہے، اور گوشت اور خون اور ہڈی اور ناخن اور بال اور دوسری بہت سی چیزوں کی صورت اختیار کر کے ہمارے جسم کا جزءِ بن جاتی ہے۔ زمین و آسمان کی بے شمار گردشوں کے بعد وہ حیرت انگیز چیز پیدا ہوتی ہے، جس کو تیل کہتے ہیں۔ انسان صرف یہ کرتا ہے کہ اس کو نکال کر اپنی مشینوں میں بھر لیتا ہے، اور پھر یہ سیال ایندھن انسانی تہذیب کے پورے نظام کو حیرت انگیز طور پر رواں دواں کر دیتا ہے۔ اسی طرح کائنات کے نظام کے تحت وہ ساری چیزیں بے شمار تعداد اور مقدار میں پیدا کی گئی ہیں، جن پر انسان صرف معمولی عمل کرتا ہے، اور اس کے بعد وہ کپڑا، مکان، فرنیچر، آلات، مشینوں، سواریوں اور بے شمار تمدنی ساز و سامان کی صورت میں ڈھل جاتی ہیں۔ کیا یہ واقعات اس بات کے ثبوت کے لیے کافی نہیں کہ اس کا ایک بنانے والا اور چلانے والا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page