کائناتی وحدت
Urdu book, p. 231
By Maulana Wahiduddin Khan
اب ایک اور پہلو سے دیکھیے۔ قدرت اپنے طویل اور ناقابل بیان عمل کے ذریعے ہر قسم کی چیزیں تیار کر کے ہم کو دے رہی ہے۔ انسان ان کو اپنے حق میں کارآمد بنانے کے لیے بے حد تھوڑا حصہ ادا کرتا ہے۔ وہ لوہے کو مشین کی صورت میں ڈھالتا ہے، اور تیل کو صاف کر کے اس کو اپنی گاڑی کی ٹنکی میں بھرتا ہے۔ مگر اس قسم کے معمولی عمل کا یہ نتیجہ ہے کہ خشکی اور تری فساد سے بھر گئے ہیں۔ قدرت نے ہم کو ایک انتہائی حسین اور خالص دنیا عطا کی تھی۔ مگر ہمارے عمل نے ہم کو دھواں، شور، غلاظت، توڑ پھوڑ، لڑائی جھگڑا اور طرح طرح کے ناقابل حل مسائل سے گھیر لیا ہے۔ ہم اپنے کارخانوں یا تمدّنی سرگرمیوں کی صورت میں جو تھوڑا سا عمل کرتے ہیں، وہی عمل کائنات میں بے حساب گنا زیادہ بڑے پیمانے پر رات دن ہو رہا ہے، مگر یہاں کسی قسم کا کوئی مسئلہ پیدا نہیں ہوتا۔ زمین مسلسل دو قسم کی دوڑ میں لگی ہوئی ہے۔ ایک، اپنے محور (axis) پر اور دوسری، سورج کے گرد اپنے مدار (orbit) پر، مگر وہ کوئی شور برپا نہیں کرتی۔ درخت ایک عظیم الشان کارخانہ کی صورت میں کام کرتے ہیں مگر وہ دھواں نہیں بکھیرتے۔ سمندروں میں بے شمار جانور ہر روز مرتے ہیں مگر وہ پانی کو خراب نہیں کرتے۔ کائنات کا نظام کھرب ہا کھرب سال سے چل رہا ہے۔ مگر اس کا منصوبہ اتنا کامل ہے کہ اس کو کبھی اپنے منصوبہ پر نظرثانی کی ضرورت پیش نہیں آتی۔ بے شمار ستارے اور سیارے خلا میں ہر وقت دوڑ رہے ہیں۔ مگر ان کی رفتار میں کبھی فرق نہیں آتا، وہ کبھی آگے پیچھے نہیں ہوتے۔ یہ تمام معجزوں سے بڑا معجزہ اور تمام کرشموں سے بڑا کرشمہ ہے، جو ہر لمحہ ہماری دنیا میں پیش کیا جا رہا ہے۔ کیا اس کے بعد کوئی اور ثبوت چاہیے کہ آدمی اس کائنات کے پیچھے ایک عظیم خدائی طاقت کو تسلیم کرے۔ پھر زندگی کو دیکھیے۔ فطرت کا کیسا انوکھا واقعہ ہے کہ چند مادی چیزیں خود بخود ایک جسم میں یک جا ہوتی ہیں، اور پھر ایک ایسی شخصیت وجود میں آجاتی ہے، جو مچھلی بن کر پانی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader