Urdu book · خدا کی دریافت

کائناتی وحدت

Urdu book, p. 233

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے کہ وہ ہے۔ وہ سوچتا ہے اور رائے قائم کرتا ہے۔ وہ ارادہ کرتا ہے، اور اس کو بالفعل نافذ کرتا ہے۔ وہ اپنے فیصلے کے تحت کہیں ایک رویہ اور کہیں دوسرا رویہ اختیار کرتا ہے۔ یہی شخصیت اور قوت جس کا ایک آدمی اپنی ”میں“ کی سطح پر ہر وقت تجربہ کر رہا ہے یہی ”میں“، اگر خدا کی صورت میں زیادہ بڑے پیمانہ پر موجود ہو تو اس میں تعجب کی کیا بات ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا کو ماننا ایسا ہی ہے جیسے اپنے آپ کو ماننا۔ اسی لیے قرآن میں کہا گیا ہے: بَلِ الْإِنْسَانُ عَلَى نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ. وَلَوْ أَلْقَى مَعَاذِيرَهُ (15-14: 75) - آدمی اپنے واسطے آپ دلیل ہے، چاہے وہ کتنی ہی معذرت کرے۔ لوگ خدا پر اور خدا کے پیغام پر یقین کرنے کے لیے معجزاتی دلیل مانگتے ہیں۔ آخر لوگوں کو اس کے سوا اور کون سا معجزہ درکار ہے، جو نا قابل قیاس حد تک بڑے پیمانے پر ساری کائنات میں جاری ہے۔ اگر اتنا بڑا معجزہ آدمی کو جھکانے کے لیے کافی نہ ہو تو دوسرا کوئی معجزہ دیکھ کر وہ کیسے ماننے کے لیے تیار ہو جائیں گے۔ حقیقت یہ ہے کہ خدا کو ماننے اور اس کے آگے اپنے آپ کو سرینڈر کرنے کے لیے جس چیز کی ضرورت ہے، وہ ہر وقت ہر آدمی کے سامنے موجود ہے۔ اس کے باوجود آدمی اگر خدا کو اور اس کے جلال و کمال کو نہ مانے تو یہ اس کا اپنا قصور ہے، نہ کہ کائنات کا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page