کائناتی وحدت
Urdu book, p. 232
By Maulana Wahiduddin Khan
میں تیرتی ہے، جو چڑیا بن کر ہوا میں اڑتی ہے۔ طرح طرح کے جانوروں کی صورت میں زمین پرچلتی پھرتی ہے، انھیں میں وہ جان دار بھی ہے، جس کو انسان کہا جاتا ہے۔ پر اسرار اسباب کے تحت ایک موزوں جسم بنتا ہے، اور اس کے اندر ہڈیاں ایک انتہائی با معنی ڈھانچے کی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔ پھر اس کے اوپر گوشت چڑھایا جاتا ہے۔ اس کے اوپر کھال کی تہیں اوڑھائی جاتی ہیں، بال اور ناخن پیدا کیے جاتے ہیں۔ پھر سارے جسم میں خون کی نہریں جاری کی جاتی ہیں۔ اس طرح ایک خود کار عمل کے ذریعے ایک عجیب و غریب انسان بنتا ہے، جو چلتا ہے، جو پکڑتا ہے، جو دیکھتا ہے، جو سنتا ہے، جو سونگھتا ہے، جو چکھتا ہے، جو سوچتا ہے، جو یاد رکھتا ہے، جو معلومات جمع کر کے ان کو مرتب کرتا ہے، جو لکھتا اور بولتا ہے۔ مردہ مادّے سے اس قسم کے ایک حیرت ناک وجود کا بن جانا ایک ایسا انوکھا واقعہ ہے کہ معجزے کا لفظ بھی اس کے اعجاز (miracle) کو بتانے کے لیے کافی نہیں۔ اگر کوئی شخص کہے کہ میں نے مٹی کو بولتے ہوئے سنا اور پتھر کو چلتے ہوئے دیکھا تو لوگ حیران ہو کر اس کی تفصیل دریافت کریں گے۔ مگر یہ انسان جو چلتا پھرتا ہے، جو بولتا اور دیکھتا ہے آخر مٹی پتھر ہی تو ہے۔ اس کے اجزا وہی ہیں، جو ”مٹی اور پتھر“ کے ہوتے ہیں۔ مٹی اور پتھر کے بولنے اور دیکھنے کی خبر کو ہم جس طرح عجیب سمجھیں گے، اسی طرح بلکہ اس سے زیادہ تعجب ہم کو اس مخلوق پر ہونا چاہیے جس کو انسان کہا جاتا ہے۔ بے جان مادّے میں اس قسم کی زندگی اور شعور پیدا ہو جانا کیا اس بات کا ثبوت نہیں کہ یہاں ایک برتر ہستی ہے، جس نے اپنی خصوصی قدرت سے یہ عجیب و غریب معجزہ رونما کیا ہے۔ انسان اگر اپنے اوپر غور کرے تو بہ آسانی وہ خدا کی حقیقت کو سمجھ سکتا ہے۔ ہم دیکھتے ہیں کہ انسان کی صورت میں ایک ”میں“ زمین پر موجود ہے۔ اس کی اپنی ایک مستقل ہستی ہے۔ وہ دوسری چیزوں سے الگ اپنا ایک وجود رکھتا ہے۔ یہ ”میں“ بلا اشتباہ یقین رکھتا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader