انسان کی بے اختیاری
Urdu book, p. 242
By Maulana Wahiduddin Khan
انسان کی بے اختیاری برٹش سائنس داں سر جیمز جینز نے اپنی کتاب پر اسرار کائنات (The Mysterious Universe) میں انسان اور کائنات کے تعلق کے بارے میں لکھا ہے — ایسا معلوم ہوتا ہے کہ انسان بھٹک کر ایک ایسی دنیا میں آ گیا ہے جو اس کے لیے بنائی نہیں گئی تھی: It appears that man has strayed in a world which was not made for him. مگر زیادہ صحیح بات یہ ہوگی کہ یہ کہا جائے کہ انسان بھٹک کر ایک ایسی دنیا میں آ گیا ہے جس کو اس نے خود نہیں بنایا، اور نہ وہ اس دنیا کو کنٹرول کرنے والا ہے: It appears that man has strayed in a world which was not made by him, and nor is he its controller. اس دنیا میں انسان کا معاملہ بہت عجیب ہے۔ انسان اپنے آپ کو اس دنیا میں ایک زندہ وجود کی حیثیت سے پاتا ہے۔ لیکن یہ وجود ایک عطیہ ہے، اس نے خود اپنے آپ کو وجود نہیں بخشا۔ انسان کو صحت مند جسم چاہیے۔ صحت مند جسم ہو تو وہ بھر پور زندگی گزارتا ہے، لیکن صحت مند جسم اس کے اپنے بس میں نہیں۔ انسان کو ان تمام چیزوں کی ضرورت ہوتی ہے، جن کو لائف سپورٹ سسٹم کہا جاتا ہے۔ یہ سسٹم ہو تو انسان کامیاب زندگی گزارے گا، لیکن اس سسٹم کو قائم کرنا اس کے اپنے بس میں نہیں۔ انسان کو موافق موسم درکار ہے۔ موافق موسم ہو تو انسان امن و عافیت کے ساتھ زندگی گزارے گا، لیکن موافق موسم کو قائم کرنا انسان کے اختیار میں نہیں۔ انسان اپنی خواہش کے مطابق ابدی زندگی چاہتا ہے، لیکن ہر انسان جو پیدا ہو کر اس دنیا میں آتا ہے، وہ ایک مقررہ وقت پر مر جاتا ہے۔ یہ انسان کی طاقت سے باہر ہے کہ وہ اپنے آپ پر موت کو وارد ہونے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader