Urdu book · خدا کی دریافت

انسان کے لیے سبق

Urdu book, p. 245

By Maulana Wahiduddin Khan

انسان کے لیے سبق قرآن میں ایک بات ان الفاظ میں آئی ہے: بَلِ الْإِنْسَانُ عَلَى نَفْسِهِ بَصِيرَةٌ، وَلَوْ أَلْقَى مَعَاذِيرَهُ (75:14-15)۔ یعنی بلکہ انسان خود اپنے اوپر گواہ ہے، چاہے وہ کتنے ہی بہانے پیش کرے۔ اس آیت کا مطلب یہ ہے کہ انسان کی تخلیق اس انداز میں ہوئی ہے کہ اگر وہ عذر (excuse) کا شکار نہ ہو، تو وہ خود اپنی تخلیق پر غور کر کے بڑی بڑی باتیں سیکھ سکتا ہے۔ اس کی زندگی خود ایک لائبریری ہے۔ اپنے مطالعے سے خود وہ اپنے لیے بڑے بڑے سبق دریافت کر سکتا ہے۔ مثلاً انسان جب اس کائنات کو دیکھتا ہے، تو اس کو یہ نظر آتا ہے کہ پوری کائنات نہایت منصوبہ بند انداز میں چل رہی ہے۔ مثلاً سورج ہمیشہ ٹھیک اپنے وقت پر نکلتا ہے، اور ٹھیک متعین وقت پر غروب ہو جاتا ہے۔ اسی طرح پوری کائنات زیرو ڈفیکٹ مینجمنٹ کے اصول پر چل رہی ہے۔ اس کے برعکس، انسان کے نظام میں ہمیشہ نقائص موجود رہتے ہیں۔ انسان اگر اس معاملے کا مطالعہ تقابلی انداز میں کرے، تو وہ خود اپنے مطالعے کے ذریعے خدائے برتر کے وجود کو دریافت کر لے گا۔ یہ دریافت اس کو یہ کہنے پر مجبور کر دے گی: أَفِي اللَّهِ شَكٌّ فَاطِرِ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ (14:10)۔ یعنی کیا خدا کے بارے میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کو وجود میں لانے والا ہے۔ اگر آدمی کے اندر یہ صلاحیت ہو کہ وہ قرآن وحدیث کی باتوں کو اپنے الفاظ میں ڈھال سکے تو اس کی دریافت اس کے لیے ری ڈسکوری (rediscovery) بن جاتی ہے۔ وہ مذکورہ باتوں کو زیادہ مؤثر انداز میں دریافت کرنے لگتا ہے۔ مثلاً قرآن میں آیا ہے: وَآتَاكُمْ مِنْ كُلِّ مَا سَأَلْتُمُوهُ وَإِنْ تَعُدُّوا نِعْمَتَ اللَّهِ لَا تُحْصُوهَا (14:34)۔ یعنی اس

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page