حفاظتی ڈھال
Urdu book, p. 247
By Maulana Wahiduddin Khan
حفاظتی ڈھال قرآن میں فرمایا گیا ہے: وَجَعَلْنَا السَّمَاءَ سَقْفاً مَّحْفُوظاً (21:32)۔ یعنی، اور ہم نے آسمان کو ایک محفوظ چھت بنایا۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ آسمان (بالائی فضا) کو اللہ تعالیٰ نے اپنی رحمت و قدرت سے اس طرح بنایا ہے کہ وہ انسان کے لیے ضرر رساں چیزوں سے حفاظت کا ذریعہ بن جائے۔ اس نظام خداوندی کے بے شمار پہلو ہیں۔ تاہم اس کا ایک جزء، غالباً وہ فضائی گیس ہے، جس کو اوزون (ozone) کہا جاتا ہے۔ سورج ہماری زمین سے نو کروڑتیس لاکھ میل دور ہے۔ وہ اتنا بڑا ہے کہ اگر اس کے مادے کو تقسیم کیا جائے تو اس سے ہماری زمین جیسے بارہ لاکھ کرے بن جائیں گے۔ یہ سورج ہمارے لیے روشنی اور حرارت کا ذریعہ ہے۔ اس سلسلے میں اس کا موجودہ فاصلہ بے حد اہم ہے، اگر زمین سے سورج کا فاصلہ موجودہ فاصلے سے کم ہوتا ہے تو اس سے آنے والی روشنی اور حرارت اتنی شدید ہوتی کہ زمین پر کسی ذی حیات کے لیے زندہ رہنا ہی ناممکن ہو جائے۔ سورج کی جو شعاعیں (rays) زمین پر آتی ہیں ان میں بعض نہایت مضر اجزا ہوتے ہیں۔ مثلاً ان آفتابی شعاعوں (sun rays) کا ایک جزء وہ ہے، جس کو الٹرا وائلٹ شعاعیں (ultraviolet rays) کہا جاتا ہے۔ یہ شعاعیں ذی حیات مخلوق کے لیے سخت مضر ہیں۔ ان سے طرح طرح کی بیماریاں پیدا ہوتی ہیں، اور ان کی زیادتی انسان اور حیوان کو ہلاک کرنے کا باعث بن جاتی ہے۔ الٹرا وائلٹ شعاعیں مسلسل سورج سے نکل کر زمین کی طرف آ رہی ہیں۔ اس کے باوجود انسان اور حیوان کیوں زمین پر زندہ ہیں، اس کی وجہ یہ ہے کہ زمین کے اوپر کئی سو میل کی جو فضا (atmosphere) ہے۔ اس کی مختلف تہوں میں سے ایک تہ وہ ہے، جو اوزون گیس پر مشتمل ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader