حفاظتی ڈھال
Urdu book, p. 248
By Maulana Wahiduddin Khan
یہ اوزون ایک قسم کی آکسیجن گیس ہے۔ اس کے مخصوص مالیکولر ڈھانچے کی وجہ سے اس میں یہ صفت پیدا ہوگئی ہے کہ وہ اوپر سے آنے والی الٹرا وائلٹ شعاعوں کو جذب کرلے اور ان کو زمین کی سطح تک پہنچنے نہ دے۔ سائنسی تحقیق کے مطابق، یہی اوزون گیس کی تہ ہے جو انسان کو الٹرا وائلٹ شعاعوں کے مضر اثرات سے بچائے ہوئے ہے۔ قرآن کا بیان ہے کہ اللہ تعالیٰ نے زمین کے اوپر بالائی فضا میں ایک محفوظ چھت قائم کی۔ بالائی فضا (atmosphere) کے بارے میں موجودہ زمانے میں جو سائنسی تحقیقات ہوئی ہیں، وہ قرآن کے اس بیان کے حق میں ایک علمی تائید کی حیثیت رکھتی ہیں۔ یہ تحقیقات بتاتی ہیں کہ فضا کے اوپر اوزون گیس کی ایک موٹی تہ ہے، جو کرہ ارض کے چاروں طرف پھیلی ہوئی ہے۔ یہ فضائی چھتری انسان کے لیے ایک حفاظتی ڈھال کا کام کر رہی ہے۔ اس حفاظتی ڈھال کے بغیر انسان کے لیے یہ ممکن ہی نہ ہوتا کہ وہ زمین کے اوپر آباد ہو اور یہاں تمدن کی تعمیر کرے۔ تحقیقات سے معلوم ہوا ہے کہ بالائی فضا میں 20 کلومیٹر اور 50 کلومیٹر کی بلندی کے درمیان موجود گیسوں میں قدرتی طور پر ایک رد عمل ہوتا ہے۔ اس کے نتیجے میں بننے والے نئے قسم کے مالیکیول سے ایک گیس تیار ہوتی ہے، جس کو اوزون کہا جاتا ہے۔ یہ اوزون زمین کے چاروں طرف فضا میں پھیلی ہوئی ہے۔ وہ الٹرا وائلٹ شعاعوں کو جذب کر لیتی ہے، اور اس طرح وہ زمین کے اوپر زندگی کے لیے ایک اہم حفاظتی ڈھال کا کام کرتی ہے:

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader