خدا کی دریافت
Urdu book, p. 252
By Maulana Wahiduddin Khan
کیا تا کہ تم کو جانچے کہ تم میں سے کون اچھا کام کرتا ہے۔ اور وہ زبردست ہے، بخشنے والا ہے۔ جس نے بنائے سات آسمان اوپر تلے۔ تم رحمن کے بنانے میں کوئی خلل نہیں دیکھو گے۔ پھر نگاہ ناکام تھک کر تمھاری طرف واپس آجائے گی (4-67:1)۔ خلاصہ کلام اللہ تعالیٰ نے سورج پیدا کیا، سورج کی پیدائش زمین پر انسان کی آبادی سے بہت پہلے ہوئی، مگر اللہ تعالیٰ کو پیشگی طور پر یہ معلوم تھا کہ سورج کی شعاعوں کا ایک جزء (الٹرا وائلٹ) انسان کے لیے مضر ہوگا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے پیشگی طور پر بالائی فضا میں ایک محکم حفاظتی انتظام کر دیا، جو انسان کو اس مضر شعاع سے بچا تار ہتا ہے۔ تعالیٰ دوسری طرف انسانی انجینئروں اور سائنس دانوں نے زمین پر ایک انڈسٹری قائم کی۔ اس انڈسٹری سے ایک ایسی گیس نکلنے والی تھی، جو فضا میں بلند ہو کر اس حفاظتی انتظام میں رخنہ پیدا کر دے، جو انسان کو سورج کی نقصان دہ شعاعوں سے بچانے کے لیے کیا گیا ہے۔ مگر انسانی ماہرین کو اس کا علم صرف اس وقت ہوا، جب کہ ان کی انڈسٹری کے یہ مضر نتائج عملاً ظہور میں آگئے، اور انسان ان کا شکار ہونے لگا۔ یہ تقابلی مثال بتاتی ہے کہ کائنات کی تخلیق نہ صرف یہ کہ ذہن کے بغیر نہیں ہو سکتی، بلکہ انسان جیسی ذہانت بھی اس عملِ تخلیق کے لیے ناکافی ہے۔ اس کے لیے مافوق ذہانت (سُپر ذہانت) درکار ہے۔ اس قسم کے اعلیٰ ذہن کے بغیر موجودہ بامعنی کائنات کبھی وجود میں نہیں آسکتی۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader