Urdu book · خدا کی دریافت

نیم کا معجزہ

Urdu book, p. 258

By Maulana Wahiduddin Khan

کیڑوں (plant parasites) کی تعداد بہت گھٹ گئی، اور ایسے کھیت جن میں یہ عمل کیا گیا تھا، فصل کی پیداوار میں نمایاں اضافہ (spectacular increase) ہوا۔ ہندوستان کے نمائندے نے اپنے مقالے میں بتایا کہ نیشنل کیمیکل لیبارٹری (پونا) نے نیم کا ایک کمپاؤنڈ تیار کیا ہے، جس کا نام نیمرچ (Neemrich) ہے۔ مگّا، آلو اور بعض دوسری فصلوں میں نیمرچ کے تجربے کیے گئے جس کے نتیجے میں ان کی پیداوار میں قابلِ لحاظ اضافہ ہوا۔ موجودہ زمانے میں دنیا کے تمام ملکوں میں کیڑا مار دواؤں (pesticides) کا استعمال عام ہے۔ ان دواؤں کے استعمال سے یقیناً زرعی پیداوار میں اضافہ ہوا ہے، مگر ابھی تک انسان یہ دریافت نہ کرسکا کہ ان دواؤں کے استعمال سے فضا پر جو مضر اثرات ہوتے ہیں، ان سے کس طرح بچایا جائے۔ یہ کیڑا مار دوائیں اگر ایک طرف کیڑے کو مارتی ہیں تو اسی کے ساتھ وہ انسان کو بھی نقصان پہنچاتی ہیں۔ اگر آپ لکڑی اور پتی کو آگ میں ڈالیں تو دونوں جل جائیں گی۔ کیوں کہ اصل کے اعتبار سے دونوں ایک ہیں۔ اسی طرح انسان اور کیڑے دونوں زندہ انواع ہیں۔ جو چیز ایک کے لیے نقصان دہ ہے وہی دوسرے کے لیے نقصان کا باعث بھی ہوتی ہے۔ انسان کو مضر بیکٹیریا سے بچانے کے لیے اینٹی بایوٹک دوائیں کھلائی جاتی ہیں۔ یہ دوائیں بیکٹیریا کی طرح انسان کے جسم کے لیے بھی نقصان دہ ثابت ہوتی ہیں۔ مکھی، مچھر، دیمک اور دوسرے کیڑوں کو ختم کرنے کے لیے ڈی ڈی ٹی چھڑکا جاتا ہے۔ اس سے مذکورہ کیڑے بھاگتے ہیں یا مرجاتے ہیں۔ مگر اسی کے ساتھ فضا میں ڈی ڈی ٹی کے اجزا شامل ہوجاتے ہیں۔ انسان سانس کے ذریعے ان کو اپنے اندر داخل کرلیتا ہے، اور پھر طرح طرح کے امراض کا شکار ہوتا ہے۔ پھل اور زرعی پیداوار میں مضر کیڑے لگتے ہیں، جن سے پیداوار بہت کم ہوجاتی ہے۔ اس کے لیے کیڑا مار دوائیں بنائی گئی ہیں۔ ان دواؤں کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page