خدا کی دریافت
Urdu book, p. 257
By Maulana Wahiduddin Khan
زمین کا مطالعہ کرتے ہوئے واضح طور پر ایسا معلوم ہوتا ہے گویا جس ہستی نے زمین کے موجودہ حالات کو ایک خاص ڈھنگ پر بنایا ہے اس کو معلوم تھا کہ یہاں جاندار چیزیں (انسان، حیوان، نباتات) ہیں۔ چنانچہ یہاں کی ہر چیز جاندار اشیا کی ضرورت کے عین مطابق بنائی گئی ہے۔ اگر یہ واقعہ آدمی کو خدا کا یقین نہ دلائے تو آخر وہ کیا چیز ہوگی جو آدمی کو اس کا یقین دلائے گی۔ نیم کا معجزہ دوسری انٹرنیشنل نیم کانفرنس دسمبر 1983 میں مغربی جرمنی میں ہوئی۔ آج کل نیم کا درخت نباتیاتی علما کی خصوصی توجہ کا مرکز بنا ہوا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ نیم مضر کیڑوں کو بھگانے والا ایک قیمتی قدرتی ذریعہ (natural repellent) ہے۔ انسان نے کیمیائی طور پر جتنی کیڑامار دوائیں بنائی ہیں وہ سب کیڑے پر اثر انداز ہونے کے ساتھ فضا کو بھی خراب کرتی ہیں، اور اس طرح انسان کے لیے مضر بنتی ہیں۔ مگر نیم کے اندر یہ انوکھی صفت ہے کہ وہ کسی فضائی نقصان (environmental damage) کے بغیر انسان کو اور نباتات کو مضر کیڑوں سے بچاتی ہے۔ مذکورہ کانفرنس میں 21 ملکوں کے ایک سو سے زیادہ سائنس داں جمع ہوئے۔ ہر ایک نے اپنے دائرے میں نیم کے تجربات بتائے۔ ہالینڈ سے آنے والے ایک عالم ایل ایم اسچون ہیون (Dr. L.M. Schoonhoven) نے اپنے مقالے میں بتایا کہ نیم کے اندر ایک انوکھا دفاعی نظام (unique defence system) ہے۔ یہ نظام ایک بے حد نادر قسم کا کیڑا کنٹرول (insect control) کا ذریعہ ہے۔ انھوں نے بتایا کہ لوگو (Togo) میں یہ تجربہ کیا گیا کہ کھیت کی مٹی میں نیم کی پتی ملا دی گئی۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ نباتیاتی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader