Urdu book · خدا کی دریافت

خدا کی دریافت

Urdu book, p. 261

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے ۔ وہ ایک وقت میں ایک ہی نسل کے پھولوں کے درمیان اڑ کر ایک کے بعد ایک کا رس لیتی رہتی ہے ۔ شہد کی مکھی کا یہ طریقہ زراعت اور باغبانی کے لیے بے حد اہم ہے ۔ اس کی وجہ سے وہ ایک مخصوص پھول کے زیرے کو اسی مخصوص درخت کے پھولوں تک پہنچاتی رہتی ہے ۔ پھول چوسنے کے دوران پھول کا زیرہ اس کے جسم سے چپک جاتا ہے ۔ جب وہ دوسرے پھول پر جاکر بیٹھتی ہے تو اس کا زیرہ اس پھول پر گر جاتا ہے ، اس طرح نر اور مادہ کے درمیان زرخیزی کا عمل انجام پاتا ہے ۔ اور ان میں تزوتیج کا عمل جاری رہتا ہے ۔ اگر ایسا نہ ہو تو تقریبا ایک لاکھ قسم کے پودے زمین سے بالکل ختم ہو جائیں ۔ یہ واضح طور پر تخلیق کے نظام میں ذہانت ہونے کا ثبوت ہے ۔ اس قسم کا بامعنی واقعہ لازمی طور پر ثابت کرتا ہے کہ اس دنیا کا ایک خالق ہے ۔ اگر خالق نہ ہو تو تخلیق کے نظام میں اس قسم کی معنویت ممکن نہیں ۔ ذرہ بھی غائب نہیں ہوابازی کے قانون کے مطابق بارہ ہزار پاؤنڈ سے زیادہ وزنی ہوائی جہازوں کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے ساتھ بلیک باكس رکھیں ۔ بلیک باكس دو چھوٹے چھوٹے خاص قسم کے ٹیپ ریکارڈ ہیں۔ جس میں سے ایک کو فلائٹ ریکارڈ ر اور دوسرے کو وائس ریکارڈ ر کہا جاتا ہے ۔ ان میں سے ہر ایک اوسطاً 20 انچ لمبا اور 6 انچ چوڑا ہوتا ہے ۔ اس کا وزن کم و بیش 25 پاؤنڈ ہوتا ہے ۔ یہ دونوں ریکارڈ ہوائی جہاز کی دم میں رکھ دیئے جاتے ہیں تاکہ حادثے کے وقت محفوظ رہ سکیں ۔ وہ مخصوص نظام کے تحت پائلٹ کی آواز ، جہاز کی رفتار اور دوسری ضروری معلومات ریکارڈ کرتے رہتے ہیں ۔ ان کا ٹیپ آٹومیٹک طور پر ہر آدھ گھنٹے میں مٹ جاتا ہے تا کہ جہاز کے آخری لمحات کا حال ان سے معلوم ہو سکے ۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page