Urdu book · خدا کی دریافت

ذرہ بھی غائب نہیں

Urdu book, p. 262

By Maulana Wahiduddin Khan

23 جون 1985 کو ایک سخت ہوائی حادثہ ہوا۔ ایئر انڈیا کا ایک بڑا جہاز (بوئنگ 747) کناڈا سے لندن ہوتا ہوا ہندوستان آ رہا تھا۔ زمینی کنٹرول جہاز کی لمحہ لمحہ رپورٹ لے رہا تھا۔ اچانک اس کی کمپیوٹر اسکرین پر جہاز کی تصویر غائب ہوگئی۔ جہاز سے پیغامات آنا بالکل بند ہو گئے۔ جہاز ایک حادثے کا شکار ہو کر اچانک اٹلانٹک سمندر میں گر پڑا تھا۔ جہاز پر 329 مسافر تھے جو سب کے سب ہلاک ہو گئے۔ ان میں سے کوئی بھی زندہ نہ بچا، جو حادثے کی تفصیلات دنیا والوں کو بتا سکے۔ اب حادثے کی بابت معلوم کرنے کا ذریعہ صرف وہ بلیک باکس تھا، جو اٹلانٹک سمندر میں تہ نشین ہو کر رہ گیا تھا۔ اٹلانٹک سمندر دنیا کا دوسرا سب سے بڑا سمندر ہے۔ اس کا رقبہ چھوٹے چھوٹے ذیلی سمندروں کو ملا کر چار کروڑ گیارہ لاکھ مربع میل ہے۔ اس ناپیدا کنار سمندر میں بلیک باکس کی حیثیت صرف ایک چھوٹے سے ذرہ کی تھی، جو سمندر کے نیچے دو میل کی گہرائی میں پڑا ہوا تھا۔ بہ ظاہر اس ذرے کو سمندر سے نکالنا نا ممکن تھا۔ مگر یہ ناممکن ممکن ہو گیا، اور 10 جولائی 1985 کو وائس ریکارڈراور 11 جولائی 1985 کو فلائٹ ریکارڈر گہرے سمندر کی تہ سے نکال لیا گیا۔ یہ غیر معمولی کرشمہ کیسے پیش آیا۔ وہ ریموٹ سے کنٹرول کیے جانے والے مشینی انسان (remote-controlled robot) کے ذریعے پیش آیا۔ بلیک باکس میں ایسی مشینیں ہوتی ہیں، جن کے ذریعہ وہ ریڈیائی سگنل بھیجتا رہتا ہے۔ یہ سگنل اس سے ہر سیکنڈ میں نکلتے ہیں، اور تیس دن تک جاری رہتے ہیں۔ فرانس اور امریکا اور برطانیہ کی جدید سامان سے مسلح کشتیوں نے سگنل کے ذریعے ان کے جائے وقوع کا ٹھیک ٹھیک پتہ لگا لیا۔ اس کے بعد مخصوص کیمرہ کے ذریعے اس کی تصویریں لی گئیں۔ پھر مشینی انسان (robot) سمندر کی تہ میں بھیجے گئے ۔ جو انسان کی مانند بازو اور ہاتھ اور انگلیاں رکھتے ہیں۔ یہ روبوٹ ریڈیائی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page