مشینی تعبیر
Urdu book, p. 271
By Maulana Wahiduddin Khan
مشینی تعبیر جولائی 1983 میں امریکی بحریہ نے فوجی مشقیں کی تھیں۔ یہ فوجی مشقیں سان فرانسسکو کے ساحل پر ہوئیں ۔ یہ پورا عمل کمپیوٹروں کے ذریعے ہورہا تھا۔ اس دوران میں بحریہ کے توپ خانہ کو فائر کرنا تھا۔ فائرنگ کے دوران کمپیوٹر میں کچھ خرابی پیدا ہوگئی ۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ کمپیوٹر مخالف جانب گولے برسانے لگا ۔ یعنی جس طرف فائرنگ مطلوب تھی اس کے بالکل الٹی طرف۔ ابتدائی پروگرام کے مطابق اس مشقی گولہ باری میں امریکی بحریہ کے توپ خانے کے گولے دور سمندر میں جاکر گرتے مگر توپوں کا رخ الٹا ہوجانے کا نتیجہ یہ ہوا کہ اس کے گولے ایک مال بردار جہاز کے پاس جاکر گرنے لگے۔ کمپیوٹر میں اس طرح کی غلطیاں پیش آتی رہتی ہے۔ کمپیوٹر کے عمل میں ایسی غلطیاں کیوں ہوتی ہیں۔ اس کی وجہ صرف ایک ہے۔ کمپیوٹر صرف ایک مادی مشین ہے۔ اس کے پاس عقل نہیں ہے۔ اس سے قیاس کیا جا سکتا ہے کہ کائنات اگر ایک مادی مشین ہوتی جیسا کہ جدید ملحدین کا دعویٰ ہے۔ تو وہ کبھی اس طرح انتہائی درست طور پر نہ چل سکتی جیسا کہ وہ چل رہی ہے۔ ایسی حالت میں زمین اور اس کی آبادیاں اسی طرح برباد ہوچکی ہوتیں جس طرح زلزلے کے بعد زلزلے کا مقام برباد ہو جاتا ہے۔ کائناتی حادثات کے نتیجے میں کائنات بھی تباہ ہوچکی ہوتی اور وہ انسان بھی جو کائنات کی مادی تعبیر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ ”کائنات کا کوئی خدا نہیں، وہ صرف ایک مادی مشین ہے“ یہ جملہ گرامر کے لحاظ سے بہ ظاہر درست ہے مگر حقیقت کے اعتبار سے وہ درست نہیں۔ اس کی سب سے بڑی وجہ یہ ہے کہ اس کے اندر داخلی تضاد پایا جاتا ہے۔ یہ جملہ اس وقت صحیح ہوتا ہے، جب کہ ایسی کوئی مادی مشین ہوتی، جو کسی بنانے والے کے بغیر بن جائے ، اور کسی چلانے والے کے بغیر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader