Urdu book · خدا کی دریافت

بے خطا نظام

Urdu book, p. 273

By Maulana Wahiduddin Khan

بے خطا نظام 3 جون 1988 کو ہونے والے واقعات میں سب سے اہم اخباری واقعہ وہ حادثہ تھا جو ایران کی ہوائی کمپنی کے ساتھ پیش آیا۔ ایران ایر (Iran Air) کا ایک مسافر بردار جہاز (Airbus A-300) تہران سے اڑا۔ وہ دبئی جانے کے لیے خلیج فارس کے اوپر سے گزر رہا تھا کہ امریکا کے جنگی جہاز (USS Vincennes) نے اس کو مار کر گرادیا۔ عملہ سمیت اس کے 290 مسافر ہلاک ہو گئے، جن میں مرد، عورتیں اور بچے سب شامل تھے۔ یہ بلاشبہ ایک وحشیانہ واقعہ تھا۔ اتنا سنگین وحشیانہ واقعہ کیوں پیش آیا۔ اس کا جواب امریکی بحریہ کے افسروں نے یہ دیا ہے کہ یہ کمپیوٹر کی غلطی (computer error) تھی۔ ان کے کمپیوٹر نے مسافر بردار جہاز کو جنگی جہاز بتایا، اس لیے انھوں نے اس پر وار کیا۔ امریکی بحریہ کے مذکورہ جہاز پر جدید ترین قسم کے راڈار لگے ہوئے ہیں۔ اس راڈار کے ساتھ کمپیوٹر کا انتہائی جدید نظام نصب کیا گیا ہے جو مصنوعی ذہانت (artificial intelligence) سے مسلح ہے۔ یہ سسٹم یہ صلاحیت رکھتا ہے کہ وہ فضا میں اڑنے والے جہاز کا معاینہ کر کے راڈار اسکرین پر لفظوں میں لکھ دے کہ وہ کس قسم کا جہاز ہے، دوست یا دشمن۔ 3 جون کو جب مذکورہ جہاز فضا کی بلندی میں اُڑ رہا تھا تو کمپیوٹر نے اس کا معاینہ کر کے راڈار اسکرین پر جہاز کا اصل نام (ایر بس اے 300) لکھنے کے بجائے جٹ فائٹر (F-14 jet fighter) لکھ دیا۔ اس کا مطلب یہ تھا کہ وہ دوست جہاز نہیں ہے، بلکہ دشمن کا جنگی جہاز ہے۔ اس کے فوراً بعد جہاز کے افسر (Captain Will Rogers III) نے بٹن دبایا، اور دو میزائل نے اُڑ کر جہاز کو اس کے تمام مسافروں سمیت قبرستان میں پہنچا دیا (ہندوستان ٹائمْس، 13 جولائی 1988، صفحہ 12)۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page