Urdu book · خدا کی دریافت

خدا کی نشانیاں

Urdu book, p. 289

By Maulana Wahiduddin Khan

حقیقت کی تلاش گلیلیوگلیلی (1642-1564) اپنی سادہ دوربین سے چاند کا صرف سامنے کا رخ دیکھ سکتا تھا۔ آج کا انسان خلائی جہاز میں لگے ہوئے دوربین کی مدد سے چاند کا پچھلا رخ بھی پوری طرح دیکھ رہا ہے۔ یہ ایک سادہ سی مثال ہے جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کل اور آج میں علمی اعتبار سے کتنا زیادہ فرق ہو چکا ہے۔ مگر ان جدید معلومات تک پہنچنے کی قیمت بہت مہنگی ہے۔ 10 اکتوبر 1980 کو نیومیکسیکو میں دنیا کی سب سے بڑی دوربین نصب کی گئی۔ اس کی قیمت 78 ملین ڈالر تھی۔ امریکا کا ایک خلائی جہاز، وائیجر 1 (1 Voyager) جونومبر 1980 میں زحل کے پاس پہنچا اس کی لاگت 340 ملین ڈالر تھی۔ یورپ میں پارٹیکل فرکس کی بین اقوامی لیبو ریٹری (CERN) 1981 میں مکمل ہوئی ہے، اس کا مقصد ایٹی میٹر کو توڑ کر میٹر میں تبدیل کرنا ہے، اس لیبو ریٹری کی لاگت 120 ملین ڈالر ہے۔ یہ ادارہ ایک اور زیادہ بڑی تحقیقی مشین تیار کرنے کا منصوبہ بنا رہا ہے، جس کی لاگت 550 ملین ڈالر ہوگی۔ پروٹان کی تحقیق کے لیے امریکا میں ایک مشین بنائی گئی ہے، جس کی لاگت 275 ملین ڈالر ہے، وغیرہ۔ ذراتی طبیعیات (particle physics) میں لوگوں کی بڑھتی ہوئی دلچسپی کا اندازہ اس سے کیا جاسکتا ہے کہ 1927 میں ہونے والی فرکس کانفرنس میں 32 سائنس داں شریک ہوئے تھے، جب کہ 1980 میں ہونے والی فرکس کانفرنس میں شریک ہونے والے سائنس دانوں کی تعداد 800 تھی۔ امریکن فزیکل سوسائٹی (1899 APS) میں قائم کی گئی۔ اس کے ممبروں کی تعداد 1920 میں 1300 تھی، 1980 میں اس سوسائٹی کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page