خدا کی موجودگی کا تجربہ
Urdu book, p. 301
By Maulana Wahiduddin Khan
ڈوب جائے۔ تخلیق کے کمال میں ہر آن خالق کا چہرہ جھلک رہا ہے۔ مگر ہمارے گردو پیش جو دنیا ہے، اس کو ہم بچپن سے دیکھتے دیکھتے عادی ہو جاتے ہیں۔ اس سے ہم اتنا مانوس ہوجاتے ہیں کہ اس کے انوکھے پن کا ہم کو احساس نہیں ہوتا۔ ہوا اور پانی اور درخت اور چڑیا غرض جو کچھ بھی ہماری دنیا میں ہے، سب کا سب حد درجہ عجیب ہے، ہر چیز اپنے خالق کا آئینہ ہے۔ مگر عادی ہونے کی وجہ سے ہم اس کے عجوبہ پن کو محسوس نہیں کر پاتے۔ مگر ایک شخص جب اچانک چاند کے اوپر اترا، اور پہلی بار وہاں کے تخلیقی منظر کو دیکھا تو وہ اس کے خالق کو محسوس کیے بغیر نہ رہ سکا۔ اس نے تخلیق کے کارنامے میں اس کے خالق کو موجود پایا۔ ہماری موجودہ دنیا جس میں ہم رہتے ہیں، یہاں بھی ”خدا کی موجودگی کا تجربہ اسی طرح ہوسکتا ہے، جس طرح چاند پر پہنچ کر کرنل آرمون کو ہوا۔ مگر لوگ موجودہ دنیا کو اس استعجابی نگاہ سے نہیں دیکھ پاتے، جس طرح چاند کا ایک نیا مسافر چاند کو دیکھتا ہے۔ اگر ہم اپنی دنیا کو اس نظر سے دیکھنے لگیں تو ہر وقت ہم کو اپنے پاس ”خدا کی موجودگی کا تجربہ ہو۔ ہم اس طرح رہنے لگیں جیسے کہ ہم خدا کے پڑوس میں رہ رہے ہیں، اور ہر وقت وہ ہماری نظروں کے سامنے ہے۔ اگر ہم ایک اعلیٰ درجے کی مشین کو پہلی بار دیکھیں تو فی الفور ہم اس کے ماہر انجینئر کی موجودگی کو وہاں محسوس کرنے لگتے ہیں۔ اسی طرح اگر ہم دنیا کو اور اس کی چیزوں کو گہرائی کے ساتھ دیکھ سکیں تو اسی وقت ہم وہاں خدا کی موجودگی کو پالیں گے۔ کائنات کی ہر تخلیق خالق کے وجود کی گواہی دیتی ہے۔ موجودہ دنیا میں انسان کی سب سے بڑی یافت یہ ہے کہ وہ خدا کو دیکھنے لگے، وہ اپنے پاس خدا کی موجودگی کو محسوس کر لے۔ اگر آدمی کا احساس زندہ ہو تو سورج کی سنہری کرنوں میں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader