Urdu book · خدا کی دریافت

جس زندگی کی ہمیں تلاش ہے

Urdu book, p. 327

By Maulana Wahiduddin Khan

یہ وہی حقیقت کی تلاش کا فطری جذبہ ہے جو نوجوان انگلص میں ابھرا تھا۔ مگر اس کو تسکین نہ مل سکی، اور مروجہ مسیحی مذہب سے غیر مطمئن ہو کر وہ معاشی اور سیاسی فلسفوں میں گم ہو گیا۔ اس طلب کی حقیقت یہ ہے کہ انسان کی فطرت میں ایک خالق اور مالک کا شعور پیدائشی طور پر پیوست ہے۔ وہ اس کے لاشعور کا ایک لازمی جزء ہے۔ " خدا میرا خالق ہے اور میں اس کا بندہ ہوں۔" یہ ایک خاموش عہد ہے، جو ہر شخص اول روز سے اپنے ساتھ لے کر اس دنیا میں آتا ہے۔ ایک پیدا کرنے والے آقا محسن کا تصور غیر محسوس طور پر اس کی رگوں میں دوڑتا رہتا ہے۔ اس کے بغیر وہ اپنے اندر عظیم خلا محسوس کرتا ہے۔ اس کی روح اندر سے زور کرتی ہے کہ جس آقا کو اس نے نہیں دیکھا اسے پالے۔ اس سے لپٹ جائے اور اپنا سب کچھ اس کے حوالے کر دے۔ خدا کی معرفت ملنا گویا اس جذبے کے صحیح مرجع کو پالینا ہے، اور جو لوگ خدا کو نہیں پاتے ان کے جذبات کسی دوسری مصنوعی چیز کی طرف مائل ہو جاتے ہیں۔ ہر شخص اپنے اندر یہ خواہش رکھنے پر مجبور ہے کہ کوئی ہو، جس کے آگے وہ اپنے بہترین جذبات کو نذر کر دے۔ 15 اگست 1947 کو جب ہندوستان کی سرکاری عمارتوں سے برٹش ایمپائر کا یونین جیک اتار کر ملک کا قومی جھنڈ الہرایا گیا تو یہ منظر دیکھ کر ان قوم پرستوں کی آنکھوں میں آنسو آگئے، جو اپنے ملک کو آزاد دیکھنے کے لیے تڑپ رہے تھے۔ یہ آنسو دراصل آزادی کی دیوی" کے ساتھ ان کے تعلق کا اظہار تھا۔ یہ اپنے معبود کو پالینے کی خوشی تھی، جس کے لیے انھوں نے اپنی عمر کا بہترین حصہ صرف کر دیا تھا۔ اسی طرح ایک لیڈر جب " قوم کے باپ" کی قبر پر جا کر پھول چڑھاتا ہے، اور اس کے آگے سر جھکا کر کھڑا ہو جاتا ہے تو وہ ٹھیک اسی عمل کو دہراتا ہے، جو ایک مذہبی آدمی اپنے معبود کے لیے رکوع اور سجدے کے نام

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page