Urdu book · خدا کی دریافت

جس زندگی کی ہمیں تلاش ہے

Urdu book, p. 328

By Maulana Wahiduddin Khan

سے کرتا ہے۔ ایک کمیونسٹ جب لینن کے مجسمے کے پاس سے گزرتے ہوئے اپنی ہیٹ اتارتا ہے، اور اس کے قدموں کی رفتار سست پڑ جاتی ہے تو اس وقت وہ اپنے معبود کی خدمت میں اپنے عقیدت کے جذبات نذر کر رہا ہوتا ہے۔ اسی طرح ہر شخص مجبور ہے کہ کسی نہ کسی چیز کو اپنا معبود بنائے اور اپنے جذبات کی قربانی اس کے آگے پیش کرے۔ یہ جذبہ چونکہ ایک فطری جذبہ ہے۔ اس لیے ابتداءً وہ ہمیشہ فطری شکل میں ابھرتا ہے۔ اس کا پہلارخ اپنے اصلی معبود کی طرف ہوتا ہے۔ مگر حالات اور ماحول کی خرابیاں اس کو غلط سمت میں موڑ دیتی ہیں، اور کچھ دنوں کے بعد جب آدمی ایک مخصوص زندگی سے مانوس ہو جاتا ہے تو اس میں اس کو لذّت ملنے لگتی ہے۔ برٹرینڈرسل اپنے بچپن میں ایک کٹّر مذہبی آدمی تھا۔ وہ باقاعدہ عبادت کرتا تھا۔ اسی زمانے میں ایک روز اس کے دادا جان نے پوچھا۔ ”تمھاری پسندیدہ دعا کون سی ہے؟“ چھوٹے رسل نے جواب دیا۔ ”میں زندگی سے تنگ آ گیا ہوں، اور اپنے گناہوں کے بوجھ سے دبا ہوتا ہوں۔“ اس زمانے میں خدا برٹرینڈ رسل کا معبود تھا۔ لیکن جب رسل تیرہ برس کی عمر کو پہنچا تو اس کی عبادت چھوٹ گئی، اور مذہبی روایات اور پرانی قدروں سے باغیانہ ماحول کے اندر رہنے کی وجہ سے خود اس کے اندر بھی ان چیزوں سے بغاو ت کے رجحانات ابھرنے لگے۔ اور بالآخر برٹرینڈ رسل ایک ملحد انسان بن گیا۔ جس کی محبوب ترین چیزیں ریاضی اور فلسفہ تھے۔ 1959ء کا واقعہ ہے۔ بی بی سی لندن پر ایک بات چیت پروگرام میں فری مین نے رسل سے پوچھا: ”کیا آپ نے مجموعی طور پر ریاضی اور فلسفے کے شوق کو مذہبی جذبات کا نعم البدل پایا ہے۔“ رسل نے جواب دیا: ” جی ہاں، یقیناً میں چالیس برس کی عمر تک اس اطمینان سے ہم کنار ہو گیا تھا، جس کے متعلق افلاطون نے کہا ہے کہ آپ ریاضی سے حاصل کر سکتے ہیں۔ یہ ایک ابدی دنیا تھی۔ وقت کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page