Urdu book · خدا کی دریافت

بگ بینگ، ایک منظم واقعہ

Urdu book, p. 35

By Maulana Wahiduddin Khan

دونوں سائنس دانوں کے نظریات کی بنیاد وہ بیک گراؤنڈ شعاعیں ہیں جو ناسا کے یو-2 جہاز میں لگے ہوئے نازک آلات نے دریافت کیے ہیں۔ یہ مخصوص جہاز 20 ہزار میٹر کی بلندی تک اڑایا گیا تھا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ یہ شعاعیں ابتدائی دھماکے کے وقت نکلی تھیں ۔ ان شعاعوں کا علم ابتدا میں 1965 میں ہوا تھا۔ یو-2 جہاز نے معلوم کیا ہے کہ یہ شعاعیں کائنات کے ہر حصے میں پائی جاتی ہیں۔ ان میں اتنی نظم و ترتیب ہے کہ ان کے ذریعے آسمانی اجرام کی رفتار کو نہایت صحت کے ساتھ ناپ کر معلوم کیا جا سکتا ہے۔ تاہم جو پیمائش کی گئی ہے، ان سے نظم و ضبط میں ایک استثنا (exception) کا علم ہوا ہے ۔ زمین ، ہمارا شمسی نظام اور ہماری کہکشاں) جس میں شمسی نظام واقع ہے (بقیہ اجرام سماوی کے مقابلے میں ایک ملین میل فی گھنٹے کی رفتار سے علیحدہ ہورہے ہیں۔ ” یہ صورت حال ہمارے مسّلمات کے کسی قدر خلاف ہے۔“ ڈاکٹر اسموٹ نے کہا ” کیوں کہ اگر ہماری کہکشاں بقیہ کائناتی توسیع کے ہم آہنگ ہو تو اس کو موجودہ رفتار کے مقابلے میں 1/6 رفتار سے سفر کرنا چاہیے۔ “ ہماری کہکشاں کیوں اس طرح استثنائی انداز میں سفر کر رہی ہے، اس کی وجہ ہم نہیں جانتے۔ اس بنیادی سوال کا جواب بھی ابھی تک لامعلوم ہے کہ کائنات کے مادہ میں ابتدائی حرکت یا دھماکہ کا آغاز کیوں کر ہوا۔ The 'big bang' was not all that big WASHINGTON, December 10 (Reuters), TWO California scientists have come up with new data suggesting that the big bang," which brought the universe into being some 15 billion years ago, was a much smoother and more orderly event than popularly imagined. In an announcement from the National Aeronautics and Space

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page