Urdu book · خدا کی دریافت

بگ بینگ، ایک منظم واقعہ

Urdu book, p. 34

By Maulana Wahiduddin Khan

بگ بینگ، ایک منظم واقعہ موجودہ زمانے کے فلکیاتی نظریات میں سے ایک نظریہ وہ ہے، جس کو بگ بینگ کہا جاتا ہے۔ اندازہ ہے کہ تقریباً 13.8 بلین سال پہلے کائنات (universe) ایک سمٹے ہوئے واحد مادے (singularity) کی صورت میں تھی۔ یہ ابتدائی مادہ جس کو بعض سائنس دانوں نے ”سپرائٹم“ کا نام دیا ہے، اس کے تمام اجزاء اندر کی طرف شدت سے کھینچے ہوئے تھے۔ اس کے بعد اس ابتدائی مادہ میں زبردست دھماکہ ہوا۔ اس دھماکہ کے نتیجہ میں اس کے اجزاء چاروں طرف پھیلنے لگے، اور بالآخر موجودہ کائنات اپنے تمام ستاروں اور سیاروں سمیت بن گئی۔ ٹائمز آف انڈیا (11 دسمبر 1977) میں چھپی خبر کے مطابق، کیلی فورنیا کے دو سائنس داں ایسے نئے حقائق تک پہنچے ہیں، جن سے معلوم ہوتا ہے کہ بڑا دھماکہ ( بگ بینگ ) اس سے بہت زیادہ پرسکون اور منظم واقعہ (orderly event) تھا جتنا کہ عام طور پر سمجھا جاتا ہے۔ امریکہ کے خلائی ادارہ ناسا کے ایک اعلامیہ میں ڈاکٹر رچرڈ ملر ( Richard A. George Fitzgerald Smoot Muller, b. 1944) اور ڈاکٹر جارج اسموٹ ( 1945 .b) نے کہا ہے کہ انھوں نے اپنی تحقیق میں پایا کہ کائنات اپنے چاروں طرف بالکل یکساں رفتار سے پھیل رہی ہے۔ اکثر سائنس داں یہ یقین رکھتے ہیں کہ کائنات ایک عظیم دھماکہ سے شروع ہوئی۔ کچھ کا خیال ہے کہ یہ ایک منتشر حالت تھی، جس سے مادہ میں ایک بھنور کی کیفیت پیدا ہوئی۔ مگر جدید شواہد یہ ظاہر بتا رہے ہیں کہ معروف معنوں میں یہ کوئی ”دھماکہ“ نہیں تھا۔ بلکہ اخراج طاقت (energy release) کا ایک پرسکون واقعہ تھا، جس کی حقیقت ابھی ہم سمجھ نہیں سکے۔ یہ اس سے بہت زیادہ پیچیدہ واقعہ تھا جیسا اب سمجھا جا رہا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page