Urdu book · خدا کی دریافت

زیرو ڈفکٹ کائنات

Urdu book, p. 43

By Maulana Wahiduddin Khan

زیروڈفیکٹ کائنات سیکنڈ ورلڈ وار (1939-1945) کے زمانے میں ایک تصور پیدا ہوا، جس کو زیر و ڈفیکٹ مینجمنٹ کہا جاتا ہے۔ اس موضوع پر بہت سے آرٹیکل اور بہت سی کتابیں شائع ہوئیں۔ جلد ہی یہ تصور ترقی یافتہ ملکوں میں تیزی سے پھیل گیا۔ کئی ملکوں، مثلاً امریکہ اور جاپان، وغیرہ میں اس تصور کو بڑے پیمانے پر عمل میں لانے کی کوشش کی گئی۔ لیکن لمبے تجربے کے بعد یہ مان لیا گیا کہ زیر و ڈفیکٹ مینجمنٹ کا تصور ناقابل حصول ہے۔ اس موضوع پر انٹرنیٹ میں کافی مواد موجود ہے۔ آپ نمونے کے طور پر حسب ذیل آرٹیکل پڑھ سکتے ہیں: The Concept of Zero Defects in Quality Management by Chandana Das (www.simplilearn.com) دورِ جدید میں صنعتی اعتبار سے ترقی یافتہ ملکوں میں بڑے پیمانے پر یہ کوشش کی گئی کہ زیروڈفیکٹ مینجمنٹ قائم کیا جائے۔ اس موضوع پر بڑی تعداد میں ریسرچ ہوئی، اور کتابیں لکھی گئیں ۔ بیسویں صدی کے تقریباً پورے دور میں یہ کام جاری رہا۔ مگر اس مقصد میں مکمل ناکامی ہوئی ۔ حالاں کہ دورِ جدید کے انتہائی ترقی یافتہ ملکوں نے اس عمل میں حصہ لیا۔ مثلاً امریکہ اور جاپان، وغیرہ۔ دوسری طرف عین اسی وقت دورِ جدید کے سائنسی مطالعے سے یہ ثابت ہوا ہے کہ فطرت کا نظام انتہائی حد تک بے خطا انداز میں قائم ہے، مثلاً ستاروں اور سیاروں کی گردش، وغیرہ۔ اگر آپ یہ جاننا چاہیں کہ کل ٹھیک ٹھیک کس وقت سورج نکلے گا، اور کس وقت ٹھیک وہ غروب ہوگا، تو آپ آج ہی اس کو نہایت درست انداز میں معلوم کر سکتے ہیں۔ ایک طرف یہ تجربہ ہے کہ انسانی دنیا میں زیروڈفیکٹ مینجمنٹ کا تصور مکمل طور پر ناکام ہو چکا ہے، اور دوسری طرف انسان کے سوا جو مادی دنیا ہے، اس میں یہ تصور کامل طور پر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page