Urdu book · خدا کی دریافت

ایک علمی ملاقات

Urdu book, p. 49

By Maulana Wahiduddin Khan

ایک علمی ملاقات 30 مارچ 2008 کی شام کو دو اعلیٰ تعلیم یافتہ صاحبان سے ملاقات ہوئی ۔ایک، مشہور برطانی جنزلسٹ سر مارک تلی (Sir Mark Tully)، اور دوسرے، برطانیہ کے ایک مسیحی عالم (Bishop of Kingston) اور ڈاکٹر رچرڈ (Dr. Richard (Cheetham ۔ یہ لوگ اسلام کے بارے میں جاننا چاہتے تھے۔ چنانچہ اُن سے اسلام کے مختلف موضوعات پر تفصیلی گفتگو ہوئی۔ سر مارک تلی نے کہا کہ اسلام کے اعتقادی نظام میں ایک خدا کے عقیدے کو بنیادی اہمیت حاصل ہے۔ یہ صرف ایک مذہبی عقیدہ ہے، یا خدا کے وجود کا کوئی سائنسی ثبوت بھی ہے۔ میں نے کہا کہ اسلام میں کوئی عقیدہ محض ادّعائی عقیدہ (dogmatic belief) نہیں ہوتا، اسلام کے اعتقادی نظام فطرت کے اٹل اصولوں پر قائم ہے۔ اسی کو موجودہ زمانے میں سائنسی بنیاد (scientific base) کہا جاتا ہے۔ میں نے کہا کہ 1920 سے پہلے جو نیوٹنین میکانکس (Newtonian Mechanics) تھی، اس کے مطابق، مادہ (matter) کی آخری اکائی (unit) ایٹم تھا۔ اُس وقت ایٹم (atom) ناقابل تقسیم سمجھا جاتا تھا۔ اُس وقت یہ سمجھا جاتا تھا کہ ہر چیز قابلِ مشاہدہ ہے، اس لیے معقول استدلال (valid argument) وہی ہے، جو براہِ راست استدلال کے اصول پر مبنی ہو۔ مگر 1920 کے بعد نیوکلیئر سائنس (nuclear science) میں جو نئی تحقیقات ہوئیں، اس کے نتیجے میں ایٹم ٹوٹ گیا۔ اب کلاسکل فزکس (classical physics) کی جگہ ویو میکانکس (wave mechanics) وجود میں آئی۔ اس تبدیلی کا اثر اصولِ استدلال پر پڑا ۔ اس نئی دریافت نے استنباطی استدلال (inferential argument) کی اہمیت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page