Urdu book · خدا کی دریافت

ایک علمی ملاقات

Urdu book, p. 50

By Maulana Wahiduddin Khan

بڑھادی۔ اب یہ مان لیا گیا کہ استنباطی استدلال بھی اتناہی ویلڈ آرگومنٹ ہے، جتنا کہ براہ راست استدلال (direct argument)۔ استدلال کی بنیاد کی اس تبدیلی کے بعد خدا کے عقیدے پر استدلال قائم کرنا اتناہی ممکن ہوگیا ہے، جتنا کہ الیکٹران پر استدلال قائم کرنا۔ جیسا کہ معلوم ہے، الیکٹران کے وجود کو استنباطی دلیل کے ذریعے ثابت کیا جاتا ہے۔ یہی استنباطی استدلال اب خدا کے وجود کو علمی طور پر ثابت کرنے کے لیے بھی حاصل ہوگیا ہے۔ چنانچہ ٹرینڈرسل (وفات 1970) نے ڈیزائن سے استدلال (argument from design) کو اپنی نوعیت کے اعتبار سے، ایک سائنسی استدلال قرار دیا ہے۔ میری اس بات کو سن کر ڈاکٹر رچرڈ نے کہا کہ یہ صحیح ہے کہ موجودہ طبیعیاتی علما (physicists) اس بات کا اعتراف کر رہے ہیں کہ کائنات کی حد درجہ معنویت اس بات کی گواہی دے رہی ہے کہ موجودہ کائنات کسی ذہن (mind) کی تخلیق ہے، لیکن علماۓ حیاتیات (biologists) اس کی تائید نہیں کرتے۔ میں نے کہا کہ بطور واقعہ آپ کا کہنا صحیح ہے، لیکن علماۓ حیاتیات کی یہ راۓ کسی سائنسی حقیقت پر مبنی نہیں، ان کی یہ راۓ تمام تر ایک غلط مفروضے پر قائم ہے۔ چارلس ڈارون (وفات 1802) نے اس معاملے میں ایک غلط مفروضہ پیش کیا اور پھر تمام لوگوں نے اس مفروضے کو بطور حقیقت مان لیا۔ ڈارون نے زندگی کے مختلف نمونوں کا تفصیل کے ساتھ مطالعہ کیا۔ اُس نے پایا کہ ہماری زمین پر بہت سی انواع حیات (species) پائی جاتی ہیں، مگر ان کے جسمانی ڈھانچے میں بہت زیادہ مشابہت ہے۔ مثلاً بلی اور شیر کے ڈھانچے میں مشابہت، بکری اور زرافہ کے ڈھانچے میں مشابہت، انسان اور بندر کے ڈھانچے میں مشابہت، وغیرہ۔ ان مشابہتوں (similarities) کو لے کر ڈارون نے یہ مفروضہ قائم کیا کہ یہاں نیچرل سلیکشن

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page