سائنس سے معرفت تک
Urdu book, p. 68
By Maulana Wahiduddin Khan
سائنس سے معرفت تک انسان کی تخلیق کا مقصد قرآن میں ان الفاظ میں بتایا گیا ہے: وَمَا خَلَقْتُ الْجِنَّ وَالْإِنْسَ إِلَّا لِيَعْبُدُونِ (56: 51) ۔ یعنی میں نے جن اور انسان کو صرف اس لیے پیدا کیا ہے کہ وہ میری عبادت کریں۔ ليعبدون کی تفسیر صحابی رسول عبد اللہ بن عباس (المجالسته و جواہر العلم للدنہوری، اثر نمبر 225)، اور ان کے شاگرد مجاہد تابعی (وفات 104 ھ) نے ليعرفون سے کی ہے (وقال مجاهد: إلا ليعبدون: ليعرفون) البحر المحيط، لآبی حیان الأندلسی، 9/562۔ یعنی اللہ کی عبادت کرنے کا مطلب ہے اللہ کی معرفت حاصل کریں۔ ابن کثیر نے اپنی تفسیر میں ابن جریج (وفات 150 ھ) کے حوالے سے یہی بات نقل کی ہے۔ قال ابن جريج : إلا ليعرفون (تفسير ابن كثير، 7/425) ۔ ابن جریج نے کہا: تاکہ وہ میری معرفت حاصل کریں۔ اس معرفت کا تعلق انسان کی ذات سے ہے۔ انسان ایک صاحب ارادہ مخلوق کی حیثیت سے پیدا کیا گیا ہے۔ انسان کی تعریف ان الفاظ میں کی جاتی ہے کہ انسان کے اندر تصوراتی سوچ (conceptual thinking) کی صلاحیت ہے۔ یہ ایک ایسی صلاحیت ہے، جو انسان کے علاوہ کسی دوسری معلوم مخلوق کو حاصل نہیں۔ انسان کے لیے معرفت کا تعین اسی خصوصی صلاحیت بنیاد پر کیا جائے گا۔ اس اعتبار سے انسان کے لیے معرفت کا معیار خود دریافت کردہ معرفت (self-discovered realization) ہے۔ یہی انسان کا اصل امتحان ہے۔ انسان کو یہ کرنا ہے کہ وہ اپنے سوچنے کی طاقت کوڈیویلپ کرے (thinking power) یہاں تک کہ وہ اس قابل ہو جائے کہ وہ سیلف ڈسکوری کی سطح پر اپنے خالق کو دریافت کرلے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader