Urdu book · خدا کی دریافت

سائنس اور عقیدۂ خدا

Urdu book, p. 73

By Maulana Wahiduddin Khan

سائنس اور عقیدہ خدا پچھلی صدیوں کی علمی تاریخ بتاتی ہے کہ سائنس کے ارتقا کے ذریعے پہلی بار استدلال کی ایسی علمی بنیاد وجود میں آئی ، جو عالمی طور پر مسلمہ علمی استدلال کی حیثیت رکھتی تھی۔ پھر اس میں مزید ارتقا ہوا، اور آخر کار سائنس ایک ایسا علم بن گیا جو مسلمہ عقلی بنیاد پر یہ ثابت کر رہا تھا کہ کائنات ایک بالا تر شعور کی کار فرمائی ہے۔ ایک سائنس داں نے کہا ہے ــــ کائنات کا مادہ ایک ذہن ہے: The stuff of the world is mind-stuff (Eddington) 1927 میں بیلجیم کے ایک سائنس داں جارج لیمسٹری (Georges Lemaitre) نے بگ بینگ (Big Bang) کا نظریہ پیش کیا۔ اس نظریے پر مزید تحقیق ہوتی رہی، یہاں تک کہ اس کی حیثیت ایک مسلّمۂ واقعہ کی ہو گئی۔ آخر کار 1965 میں بیگ گراؤنڈ ریڈی ایشن (background radiation) کی دریافت ہوئی۔ اس سے معلوم ہوا کہ کائنات کے بالائی خلا میں لہر دار سطح (ripples) پائی جاتی ہیں۔ یہ بگ بینگ کی شکل میں ہونے والے انفجار کی باقیات ہیں۔ ان لہروں کو دیکھ کر ایک امریکی سائنس داں جو میل پرائیمک (Joel Primack) نے کہا تھا ــــ یہ لہریں خدا کے ہاتھ کی تحریر ہیں: The ripples are no less than the handwriting of God. (www.newsweek.com/handwriting-god-198918, Accessed 23 March 2020) جارج اسموٹ 1945 میں پیدا ہوا۔ وہ ایک امریکی سائنس داں ہے۔ اس نے 2006 میں فزکس کا نوبل پرائز حاصل کیا۔ یہ انعام اُن کو کامک بیک گراؤنڈ ایکسپلورر کے لیے کام کرنے پر دیا گیا۔ 1992 میں جارج اسموٹ نے یہ اعلان کیا کہ بالائی خلا میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page