دیباچہ
Urdu book, p. 7
By Maulana Wahiduddin Khan
دیباچہ خدا کی دریافت کا سفر ایک فطری سفر ہے۔ وہ اتنا آسان ہے کہ ہر آدمی عین اپنے پاس سے اس کو شروع کر سکتا ہے۔ مثلاً بیان کیا جاتا ہے کہ ایک عرب بدو سے سوال کیا گیا: مَا الدَّلِيلُ عَلَى وُجُودِ الرَّبِّ تَعَالَى؟ فَقَالَ: يَا سُبْحَانَ اللَّهِ إِنَّ الْبعر ليدل عَلَى الْبَعِيرِ، وَإِنَّ أَثَرَ الْأَقْدَامِ لَتَدُلُّ عَلَى الْمَسِيرِ، فَسَمَاءٌ ذَاتُ أَبْرَاجٍ، وَأَرْضٌ ذَاتُ فِجَاجٍ، وَبِحَارُ ذَاتُ أَمْوَاجٍ أَلَا يَدُلُّ ذَلِكَ عَلَى وُجُودِ اللَّطِيفِ الْخَبِيرِ ؟ (تفسیر ابن کثیر، جلد 1، صفحہ 106)۔ یعنی رب العالمین کے وجود کی دلیل کیا ہے؟ اس نے کہا: سبحان اللہ، مینگی اونٹنی پر دلالت کرتی ہے، قدم کے نشان چلنے والے پر دلالت کرتے ہیں، تو برجوں والا آسمان، اور کشادہ راستوں والی زمین، اور موجوں والے سمندر، کیا اس ذات پر دلالت نہیں کریں گے، جو بڑا باریک ہیں اور بڑا باخبر ہے؟ یہ واقعہ ایک عام انسان کا واقعہ ہے۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ خالق کی پہچان کا معاملہ اتنا زیادہ آسان ہے کہ ہر انسان اپنی فطرت کے تقاضے کے طور پر وہ اپنی قریب ترین مثال سے سمجھ سکتا ہے۔ خالق کی دریافت کے لیے کسی لائبریری میں جانے کی یا کسی دور کا سفر کرنے کی ضرورت نہیں۔ شرط یہ ہے کہ آدمی متلاشی (seeker) ہو۔ مثلاً ایک آدمی نے سوال کیا کہ ہم خدا کو کیسے پہچانیں ۔ میں نے کہا آپ اپنے ہاتھ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader