Urdu book · خدا کی دریافت

دیباچہ

Urdu book, p. 8

By Maulana Wahiduddin Khan

اور پاؤں کی انگلیوں کو دیکھیے۔ اگر ایسا ہوتا کہ ہاتھ کی انگلیاں چھوٹی چھوٹی ہوتیں، اور پاؤں کی انگلیاں بڑی بڑی ہوتیں تو زندگی کتنی مشکل ہو جاتی۔ اتنی گہری پلاننگ صرف خالق اور رُزّاق ہی کر سکتا ہے۔ اگر آپ ایک ایسے خدا کو نہ مانیں، جو خَلّاق اور رُزّاق ہے، تو آپ ہر معلوم چیز کو سمجھنے سے قاصر رہیں گے۔ خدا کو پہچاننا اتنا ہی آسان ہے، جتنا کہ خود اپنے آپ کو پہچاننا۔ اس قسم کی دریافت کو کامن سنس کی سطح پر خالق کی دریافت کہا جاتا ہے۔ لیکن دریافت کی ایک اور سطح ہے، جو جدید دور میں انسان نے ڈسکور کی ہے، اور وہ ہے سائنسی دلائل کے ذریعے خالق کی دریافت۔ اس حقیقت کی طرف قرآن میں اشارہ کیا گیا ہے(41:53)۔ آج انسان ان دلائل کے ذریعے آسانی کے ساتھ خدا کو دریافت کر سکتا ہے۔ سائنس فطرت (nature) کے مطالعے کا نام ہے۔ فطرت میں وہ تمام چیزیں شامل ہیں، جن کو ہم کائنات کہتے ہیں۔ سائنسی مطالعے کا آغاز کچھ ابتدائی باتوں سے ہوا، لیکن یہ مطالعہ جتنا زیادہ بڑھتا گیا، اتنا ہی یہ ظاہر ہوتا گیا کہ کائنات (universe) ایک بے حد بامعنی کائنات ہے۔ کائنات کی کوئی بھی ایسی تشریح جو کائنات کی معنویت کے اعتراف پر قائم نہ ہو، وہ سائنسی تحقیقات سے مطابقت نہیں رکھتی۔ مثلاً سائنسی مطالعے کے ذریعے معلوم ہوا کہ کائنات کے اندر ایک ذہین ڈیزائن (intelligent design) ہے۔ اب اگر یہ نہ مانا جائے کہ کائنات کا ایک ذہین ڈیزائنر (intelligent designer) ہے تو کائنات کا نادر ظاہرہ ناقابل توجیہ بن جاتا ہے۔ اسی طرح سائنس کے مطالعے نے بتایا کہ ہماری کائنات ایک کسٹم میڈ (custom-made) کائنات ہے، یعنی وہ انسان کی ضرورتوں کے عین مطابق ہے۔ اب

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page