Urdu book · خدا کی دریافت

خدا کی دریافت

Urdu book, p. 84

By Maulana Wahiduddin Khan

موجودہ دنیا کی ہر چیز انسان کے لیے امتحان کا ایک پرچہ ہے۔ اس دنیا کی ہر چیز اس لیے ہے تا کہ انسان اپنی شخصیت کو مکمل کرے۔ مثال کے طور پر موجودہ دنیا طرح طرح کی تلخیوں سے بھری ہوئی ہے۔ ایسا اس لیے ہے کہ انسان ان تجربات سے گزرتے ہوئے یہ ثبوت دے کہ وہ منفی حالات میں بھی مثبت احساسات کے ساتھ جی سکتا ہے۔ ایسے ہی مثبت شخصیات کے لوگ جنت کی معیاری دنیا میں داخل کیے جائیں گے۔ اس کے برعکس، جو لوگ رِدّعمل کا شکار ہو گئے، اور منفی تجربات کے درمیان خود بھی منفی بن گئے، ایسی منفی شخصیت رکھنے والے لوگوں کو جنت کے لیے نااہل قرار دیا جائے گا۔ وہ کائناتی کوڑا خانے میں ڈال دیے جائیں گے، جہاں سے وہ کبھی نکل نہ سکیں گے۔ عضویاتی ارتقا کے نظریے کو موجودہ زمانے میں سائنٹفک فیکٹ سمجھا جاتا ہے۔ ایسا اس لیے نہیں ہے کہ عضویاتی ارتقا کے نظریے کے حق میں مشاہداتی دلائل حاصل ہو گئے ہیں۔ اس کا سبب صرف یہ ہے کہ نظریۂ ارتقا کو ماننے کی صورت میں حیاتیاتی شواہد کی ایک قابل فہم توجیہ حاصل ہو جاتی ہے۔ جب کہ علمائے سائنس کے نزدیک، دوسرا کوئی ایسا نظریہ موجود نہیں جو معلوم حیاتیاتی شواہد کی توجیہ کرتا ہو۔ گو یا نظریۂ ارتقا ایک قابل عمل نظریہ (workable theory) ہے، نہ کہ معروف معنوں میں کوئی ثابت شدہ نظریہ (proved theory)۔ اطمینان بخش توجیہ اس سائنسی اصول کی روشنی میں کہا جا سکتا ہے کہ عالم آخرت کو ماننے کی صورت میں تمام معلوم شواہد کی تشفی بخش توجیہ مل جاتی ہے، جب کہ عالم آخرت کو نہ ماننے کی صورت میں سب کچھ ناقابل توجیہ بن رہتا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page