Urdu book · خدا کی دریافت

خدا کی دریافت

Urdu book, p. 83

By Maulana Wahiduddin Khan

ملنے سے موجودہ دنیا اپنے وجود کی تکمیل کرتی ہے۔ آخرت کے بغیر ہماری موجودہ دنیا اسی طرح بے معنی ہو جاتی ہے، جس طرح اس کائنات کی دوسری تمام چیزیں اپنے جوڑے کے بغیر نامکمل رہتی ہیں۔ ہماری دنیا کا دو دنیاؤں کی صورت میں ہونا بہت با معنی ہے۔ اس دوسری دنیا کو ماننے کے بعد انسانی وجود ایک مکمل وجود بن جاتا ہے۔ اب ہر چیز اپنی معنویت پالیتی ہے۔ اب ہر چیز اپنے خانے میں فٹ بیٹھ جاتی ہے: Everything falls into place. درست فریم ورک یہ تصور ہم کو وہ فریم ورک دے دیتا ہے، جس میں زندگی اور کائنات کی ہر چیز اپنی اطمینان بخش توجیہ پاسکے۔ اس تصور سے یہ بات بھی واضح ہو جاتی ہے کہ جنت اور جہنم کیا ہے۔ جنت گویا سنجیدہ اور حق پرست لوگوں کی آرام گاہ ہے اور جہنم گویا سرکش اور باطل پرستوں کا عذاب خانہ۔ اس کے مطابق جو تصویر بنتی ہے وہ یہ ہے کہ موجودہ دنیا کو عالم امتحان ( testing ground) کے طور پر بنایا گیا ہے، اور اگلی دنیا کو اپنا انجام پانے کے لیے۔ انسان کو پیدائشی طور پر ابدی مخلوق کی حیثیت سے بنایا گیا ہے۔ ہر عورت اور مرد کو ہمیشہ زندہ رہنے والی شخصیت عطا ہوئی ہے۔ تاہم انسان کی زندگی گویا آئس برگ کی مانند ہے، جس کا بہت چھوٹا حصہ اوپر دکھائی دیتا ہے، اور اس کا پورا بقیہ وجود سمندر میں ڈوبا ہوا ہوتا ہے۔ اسی طرح انسان کی مدتِ عمر(life span) دو حصوں میں بٹی ہوئی ہے۔ اس کا بہت چھوٹا حصہ موجودہ دنیا میں رکھا گیا ہے، اور اس کی مدتِ حیات کا زیادہ بڑا حصہ عالم آخرت میں رکھ دیا گیا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page