Urdu book · خدا کی دریافت

خدا کی دریافت

Urdu book, p. 86

By Maulana Wahiduddin Khan

یقینی طور پر یہ خواہشیں اور تمنائیں بھی سوچی سمجھی تخلیق ہیں۔ ان کی پیدائش کا ایک واضح مقصد ہے۔ البتہ یہ مقصد موجودہ دنیا میں پورا نہیں ہوسکتا۔ یہ خواہشیں اور تمنائیں لامودود ہیں، اور وہ ایک لامودود دنیا ہی میں پوری ہو سکتی ہیں۔ اسی لامودود دنیا کا نام آخرت ہے۔ آخرت کی اس لامودود دنیا میں اچھے لوگوں کو ابدی جنت ملے گی، جو ہر قسم کی خوشیوں اور راحتوں سے بھری ہوئی ہوگی۔ اس کے برعکس جو لوگ موجودہ دنیا میں برے ثابت ہوں، ان کو آخرت کی دنیا میں کائناتی کوڑا خانے میں ڈال دیا جائے گا، جہاں وہ مجبور ہوں گے کہ وہ اپنی برائیوں کی سزا ابدی طور پر بھگتے رہیں۔ جنت کی حقیقت جنت کیا ہے۔ جنت انسان کی تلاش کا جواب ہے۔ انسان اپنے آپ کو ایک ایسی دنیا میں پاتا ہے، جہاں وہ ایک انوکھے استثنا کی حیثیت رکھتا ہے۔ وسیع کائنات کا ہر جزء اپنے آپ میں مکمل ہے۔ یہاں صرف انسان ہے جو اپنے آپ میں مکمل نہیں۔ پوری کائنات ایک بے نقص (zero-defect) کائنات ہے۔ یہاں صرف انسان ہے جو استثنائی طور پر ناقص وجود کی حیثیت رکھتا ہے۔ کائنات میں ہر طرف یقین (certainty) ہے۔ اس کے برعکس، انسان کی دنیا میں غیر یقینیت (uncertainty) عام ہے۔ بقیہ کائنات میں کہیں خوف (fear) دکھائی نہیں دیتا، مگر انسان ہمیشہ خوف اور اندیشے سے دوچار رہتا ہے۔ بقیہ کائنات میں ہر طرف تسکین (satisfaction) کی حالت ہے، اور انسان کی زندگی میں بے تسکینی (dissatisfaction) کی حالت ہے۔ بقیہ کائنات میں ہر چیز کا حال یہ ہے کہ جو کچھ اس کو چاہیے، وہ سب اس کو مل رہا ہے، مگر انسان اس دنیا کی واحد مخلوق ہے، جو اس احساس میں مبتلا رہتا ہے کہ جو کچھ اس نے چاہا، وہ اس کو نہیں ملا۔ بقیہ کائنات برائی سے پاک (evil-free) کائنات ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page