خدا کی دریافت
Urdu book, p. 87
By Maulana Wahiduddin Khan
مگر انسان استثنائی طور پر اس مسئلے سے دوچار ہے، جس کو برائی کا مسئلہ (problem of evil) کہا جاتا ہے۔ جنت اسی سوال کا جواب ہے۔ جنت کا تصور بتاتا ہے کہ انسان کے لیے بھی وہ سب کچھ پوری طرح موجود ہے، جو بقیہ کائنات کو ملا ہوا ہے۔ صرف اس فرق کے ساتھ کہ بقیہ کائنات کو اپنا مطلوب آج میں مل رہا ہے، جب کہ انسان کو اس کا مطلوب کل میں ملے گا۔ دونوں کا معاملات کا یہی فرق ہے جس کی بنا پر ایسا ہے کہ بقیہ کائنات کے پاس کل (tomorrow) کا تصور نہیں۔ یہ صرف انسان ہے، جو استثنائی طور پر کل کے تصور میں جیتا ہے۔ فطرت کا حصہ خدا اور آخرت کا معاملہ بظاہر غیر مشہود دنیا (unseen world) سے تعلق رکھتا ہے۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ وہ فطرتِ انسانی کا ایک لازمی حصہ ہے۔ انسان کی فطرت خدا اور آخرت کے معاملے کو ایک معلوم صداقت کے طور پر جان لیتی ہے۔ اصل یہ ہے کہ خدا کی معرفت کے دو درجے ہیں۔ ایک عقلی اور دوسرا فطری۔ خدا اور آخرت کے وجود کو عقلی سطح پر ماننا، اس معرفت کا صرف ابتدائی درجہ ہے۔ جب کہ خدا اور آخرت کے وجود پر فطری سطح پر یقین کرنا، اس کا انتہائی درجہ۔ خدا اور آخرت کے معاملے میں عقلی دلائل کے استعمال کا مقصد صرف یہ ہوتا ہے کہ انسان کے اوپر سے شک کے پردے کو ہٹا دیا جائے۔ انسان کو اس مقام تک لایا جائے جہاں وہ خدا اور آخرت کے معاملے کو کم از کم امکانی صداقت کے طور پر قبول کرلے۔ خدا اور آخرت کے معاملے میں دلیل اور منطق کے استعمال کا مقصد یہ ہے کہ آدمی کو اس فکری سطح پر لایا جائے جہاں وہ خدا اور آخرت کے وجود کو بطور ایک نظریہ ماننے کے لیے تیار ہوجائے۔ جب آدمی اس حالت تک پہنچ جائے تو وہ اس قابل ہو جاتا ہے کہ اس نظریہ کو قبول

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader