Urdu book · کتابِ معرفت

معرفت تخلیق

Urdu book, p. 101

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے (high praise) ہے۔ جس ہستی کی تعریف کی جائے اُس کے لحاظ سے تعریف کرنے والے کے اندر جذبات پیدا ہوتے ہیں۔ جب ایک شخص اللہ کو اس کی عظمتوں کے ساتھ دریافت کرتا ہے اور کہتا ہے کہ الحمد للہ، تو یہ سادہ طور پر مدح اور تعریف کا ایک کلمہ نہیں ہوتا، اُس میں شکر و اعتراف، احسان مندی اور جذباتی تعلق جیسے تمام اعلی احساسات لازمی طور پر شامل ہوجاتے ہیں۔ لغت کے اعتبار سے حمد، مدح کے معنی میں ہے، لیکن استعمال کی نسبت سے اس میں معنوی اضافہ ہوتا رہتا ہے۔ حمد کے لغوی معنی اگر چہ وہی ہیں جو مدح کے معنی ہیں، لیکن حمد کا لفظ جب رب العالمین کی نسبت سے بولا جائے تو وہ مدح پلس (praise plus) کے ہم معنی بن جائے گا۔ ایک انسان جب اپنے وجود پر غور کرتا ہے، وہ کائنات کے بارے میں سوچتا ہے، وہ تخلیق کے مظاہر میں خالق کو دریافت کرتا ہے، تو اس کے اندر احساسات کا سمندر موج زن ہو جاتا ہے۔ اُس وقت وہ بے تابا نہ طور پر کہہ اٹھتا ہے: الحمد للہ رب العالمین۔ یہ شعوری حمد خدا کی ہستی کا اعلیٰ ترین اعتراف ہے، اس کے بعد اعتراف کا اور کوئی درجہ نہیں۔ انسان کی فطرت میں پیدائشی طور پر یہ شعور موجود ہے کہ وہ ایک اعلیٰ ہستی کو پائے اور اس کے لیے اپنی طرف سے کمالِ اعتراف کے جذبات پیش کرے ۔ انسان جب ایک خدا کو اپنی اس فطرت کی پکار کے جواب کے طور پر دریافت کرے، تو اسی کا نام توحید ہے۔ اور جب انسان اپنے ان جذبات کو کسی غیر خدا کی طرف منسوب (attribute) کردے اور اُس سے وہ تعلق پیدا کرلے جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: يحبونهم كحب الله (2:165) تو اسی کا نام شرک ہے۔ تو حید پر مبنی دین، اللہ کا مطلوب دین ہے اور شرک پر مبنی دین، اللہ کا غیر مطلوب دین۔ اصحاب رسول کا ایک استثنائی رول تھا۔ وہ رول یہ تھا کہ وہ تاریخ میں الحمدلغیر اللہ کلچر کے غیر مطلوب تسلسل کو توڑیں اور الحمد للہ کلچر کے مطلوب دور کا آغاز کریں۔ قرآن کی مذکورہ آیت (الانفال، 8:39) میں قتال (جنگ) کا لفظ زمانے کی رعایت سے آیا ہے۔ قدیم زمانے میں یہ صورتِ حال تھی کہ الحمدلغیر اللہ کلچر نے سیاسی اقتدار (political power) کی سرپرستی حاصل کرلی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page