Urdu book · کتابِ معرفت

معرفت تخلیق

Urdu book, p. 102

By Maulana Wahiduddin Khan

تھی، اس لیے الحمدللہ کلچر کا خاتمہ کرنے کے لیے وقت کے سیاسی اقتدار سے مسلح ٹکراؤ پیش آیا۔ ساتویں صدی عیسوی میں دو بڑے سیاسی ایمپائر تھے جو الحمدللہ کلچر کے فعال سرپرست بنے ہوئے تھے۔ یہ تھے رومن ایمپائر، اور ساسانی ایمپائر۔ وہ اپنے اقتدار کی بقا کے لیے ضروری سمجھتے تھے کہ الحمدللہ کلچر کا رواج پوری طرح قائم رہے۔ چنانچہ انھوں نے عرب کے صحرا میں اٹھنے والی تحریک توحید یا الحمدللہ کلچر کو اپنے لیے ایک سنگین خطرہ سمجھا اور اس کے خلاف خود اپنی طرف سے مسلح کارروائی کا آغاز کر دیا۔ اس کے نتیجے میں اصحاب رسول کو رومن ایمپائر اور ساسانی ایمپائر کے مقابلے میں دفاعی طور پر جنگ کا سامنا کرنا پڑا۔ یہ ایک بے حد مشکل کام تھا۔ رومن ایمپائر اور ساسانی ایمپائر کے مقابلے میں اصحاب رسول کی طاقت تقریباً صفر (zero) کی حیثیت رکھتی تھی۔ اس موقع پر اللہ تعالیٰ نے خصوصی مدد کی۔ ایسے اسباب پیدا ہوئے کہ دونوں ایمپائرز دس سال کے اندر دو بار خود ایک دوسرے کے خلاف مسلح جنگ میں مبتلا ہو گئے۔ اس باہمی ٹکراؤ نے دونوں کو آخری حد تک کمزور کر دیا۔ باہمی جنگ کے ذریعے پیش آنے والی یہی دو طرفہ مغلوبیت ہے جس کی طرف قرآن کی سورہ الروم کی ابتدائی آیتوں میں اشارہ کیا گیا ہے (5-2 :30)۔ بائبل میں کئی ایسی پیشین گوئیاں ہیں جن کا تعلق اصحاب رسول سے ہے۔ اُن میں سے ایک پیشین گوئی وہ ہے جس کا تعلق رومن ایمپائر اور ساسانی ایمپائر کی مغلوبیت کے اسی واقعے سے ہے۔ اس واقعے کو بائبل میں تمثیل کی زبان میں اس طرح بیان کیا گیا ہے اُس نے نگاہ کی اور قومیں پراگندہ ہوگئیں، ازلی پہاڑ ریزہ ریزہ ہوگئے، قدیم ٹیلے جھک گئے : He looked and startled the nations. And the everlasting mountains were scattered. (Habakkuk 3:6) خلیفہ ثانی عمر بن الخطاب کے زمانہ خلافت (644-634ء) میں صحابہ کی جماعت ایران میں داخل ہوئی۔ ان کی فتوحات کو دیکھ کر ایران کا سپہ سالار رستم مرعوب ہو گیا۔ اس نے صحابہ کے وفد کو اپنے دربار میں گفت و شنید کے لیے بلایا۔ گفتگو کے دوران رستم نے صحابی رسول ربعی بن عامر سے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page