Urdu book · کتابِ معرفت

معرفت تخلیق

Urdu book, p. 103

By Maulana Wahiduddin Khan

پوچھا کہ تم لوگ ہمارے ملک میں کیوں داخل ہوئے۔ ربیع بن عامر نے بے خوفی کے ساتھ جواب دیا: اَللّٰہُ ابْتَعَثْنَا، وَاللّٰہِ جَاءَ بِنَا لِنُخْرِجَ مَنْ شَاءَ مِنْ عِبَادَةِ الْعِبَادِ إِلَى عِبَادَةِ اللّٰہِ (تاریخ الامم والملوک للطبری، جلد 3، صفحہ 520)۔ یعنی اللہ نے ہم کو بھیجا ہے، تا کہ وہ جس کو چاہے ہم اُس کو بندوں کی عبادت سے نکال کر خدا کی عبادت کی طرف لے آئیں۔ صحابی رسول کے اِس قول کو اگر لفظ بدل کر کہا جائے تو وہ یہ ہوگا کہ اللہ نے اپنے ایک منصوبے کے تحت ہم کو اُٹھایا ہے، وہ منصوبہ یہ ہے کہ دنیا سے الحمدللہ کلچر کے غیر مطلوب دور کا خاتمہ ہو، اور دنیا میں الحمد للہ کلچر کا ربانی دور شروع ہو جائے۔ اصحاب رسول کا یہ اقدام اپنی حقیقت کے اعتبار سے، کسی قسم کا سیاسی غلبہ قائم کرنے کے معنی میں نہ تھا، بلکہ وہ زیادہ وسیع تر معنی میں تھا۔ اصحاب رسول کا مشن یہ تھا کہ وہ دنیا میں ایک نئی تہذیب (civilization) کا غلبہ قائم کریں۔ یہ ایک دور تہذیب کی جگہ دوسرے دور تہذیب کو لانا تھا، نہ کہ محدود معنوں میں ایک حکومت کو ہٹا کر اس کی جگہ دوسری حکومت کو لانا، یعنی الحمدللہ غیر اللہ پر مبنی تہذیب کی جگہ الحمدللہ پر مبنی تہذیب۔ حقیقی تصویر، تاریخی تصویر آج جب اصحاب رسول کا نام لیا جاتا ہے تو اُس وقت تک اٗس کو مکمل نہیں سمجھا جاتا، جب تک کہ اُن کے نام کے ساتھ رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین جیسے تعظیمی الفاظ شامل نہ کیے جائیں۔ آج اصحاب رسول کا لفظ مسلمہ طور پر ایک پُر عظمت لفظ کی حیثیت رکھتا ہے۔ اصحاب رسول کی یہ تصویر اُس وقت بنی ہے، جب کہ اُن کے ساتھ بعد کی تاریخی عظمتیں شامل ہوگئیں۔ لیکن اصحاب رسول کی تصویر اُن کے معاصرین کے لیے بالکل عام انسانوں جیسی تھی۔ صلح حدیبیہ (6 ہجری) کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور قریش کے درمیان صلح کی گفتگو ہوئی تھی۔ اُس وقت آپ کے ساتھ چودہ سو اصحاب تھے۔ اِس موقع پر قریش کے نمائندہ عروہ بن مسعود الثقفی نے صحابہ کو دیکھ کر حقارت کے ساتھ اُن کو آشواب یعنی محض ایک بھیڑ (crowd) کا نام دیا تھا۔ (السیرۃ النبویۃ لابن کثیر 3/ 331) یہی معاملہ یقینی طور پر بعد کے زمانے کے گروہ، اخوان رسول کے ساتھ بھی پیش آئے گا۔ اُن

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page