Urdu book · کتابِ معرفت

معرفت تخلیق

Urdu book, p. 112

By Maulana Wahiduddin Khan

افریقہ کی شمالی سرحد تک گئے، لیکن اُس زمانے میں بحر اٹلانٹک کو (Atlantic Ocean) کو پار کرنے کا کوئی وسیلہ موجود نہ تھا، اِس لیے اُن کا دعوتی مشن افریقہ کے ساحل سے آگے نہ بڑھ سکا (الکامل فی التاریخ، 3/ 206)۔ مغربی تہذیب کے ذریعے دعوت کے جو نئے مواقع کھلے، وہ بنیادی طور پر دو قسم کے مواقع تھے۔ اس کا ایک پہلو وہ تھا جس کو فکری پہلو کہا جا سکتا ہے، یعنی فکری اور نظریاتی اعتبار سے نئے دعوتی مواقع کا پیدا ہونا۔ مثلاً مکمل مذہبی آزادی، عمومی سطح پر روحِ تجسس (spirit of enquiry) کا وجود میں آنا، مذاہب کا غیر اعتقادی مطالعہ، وغیرہ۔ اس سلسلے میں سب سے بڑا واقعہ یہ ہوا کہ سائنسی مطالعے کے نتیجے میں فطرت (nature) میں چھپے ہوئے قوانین دریافت ہوئے۔ یہ دریافتیں گویا کہ آلاءِ اللہ (wonders of God) کی دریافتیں تھیں۔ ان دریافتوں کے نتیجے میں مذہب توحید کو خود انسان کے قائم کردہ علمی معیار پر مدلل کرنا ممکن ہو گیا۔ مستقبل میں پیش آنے والا یہی عظیم دعوتی امکان ہے جس کو قرآن کی سورہ حم السجدہ میں بطور پیشین گوئی اِس طرح بیان کیا گیا تھا: سنریہم آياتنا في الآفاق وفي أنفسهم حتى يتبين لهم أنه الحق (41: 53)۔ اس سلسلے میں پہلا اہم واقعہ اٹھار ہویں صدی عیسوی میں باقاعدہ طور پر پرنٹنگ پریس کا وجود میں آنا تھا۔ اس ٹکنالوجی نے دعوت کے کام کو دستی کتابت کے مرحلے سے نکال کر پرنٹنگ کے مرحلے میں پہنچا دیا۔ اِسی طرح جدید کمیونیکیشن کی دریافت ہے۔ جدید کمیونیکیشن اور ملٹی میڈیا نے بیسویں صدی عیسوی میں پہلی بار حقیقی طور پر اس بات کو ممکن بنا دیا کہ خدائی پیغام کو نہ صرف سارے عالم میں پہنچایا جا سکے، بلکہ اس کو اتنی پُر سرعت کے ساتھ انجام دیا جائے کہ وقت کا معاملہ اضافی (relative) ہو جائے۔ یہی وہ چیز ہے جس کو موجودہ زمانے میں فوری مواصلات (instant communication) کہا جاتا ہے۔ بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ کمیونیکیشن اور میڈیا کے میدان میں یہ ناقابلِ قیاس ترقی اِسی لیے ہوئی کہ آخری دور کے داعیوں کی جماعت (اخوانِ رسول) اُس کو استعمال کر کے ادخالِ کلمہ کے عمل کو مؤثر طور پر انجام دے سکے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page