معرفت تخلیق
Urdu book, p. 111
By Maulana Wahiduddin Khan
صلاحیت رکھتے ہوں۔ جو لوگ اخوان رسول کے بارے میں کوئی پراسرار تصور رکھتے ہیں، جو اُن کو بشر کے بجائے فوق البشری کی سطح پر دیکھنا چاہتے ہیں، وہ اخوانِ رسول کے زمانے میں اخوانِ رسول کو پہچاننے میں اُسی طرح ناکام رہیں گے جس طرح اصحابِ رسول کے زمانے میں لوگ اصحابِ رسول کو پہچاننے میں ناکام رہے۔ تائید بذریعہ سیکولر تہذیب ایک حدیث رسول ان الفاظ میں آئی ہے: اِنَّ اللهَ عَزَّ وَجَلَّ لَيُؤَيِّدُ الْاِسْلَامَ بِرِجَالٍ مَّاهُمْ مِنْ أَهْلِهِ (معجم الکبیر للطبرانی، حدیث نمبر 14640)۔ یعنی اللہ ضرور اس دین کی تائید کرے گا، ان لوگوں کے ذریعے جو اہلِ (دین) میں سے نہیں ہوں گے۔ اس حدیث کے مطابق، سیکولر یا غیر مومن (unbeliever) کے ذریعے اللہ اس دین کی تائید کرے گا۔ تاریخ کا مطالعہ بتاتا ہے کہ بار بار ایسا ہوا کہ ایک غیر مومن یا غیر متقی انسان نے کسی موقع پر دین خداوندی کی مدد کی۔ مثلاً ہجرت کے مشکل سفر میں عبداللہ بن ارقط کی رہنمائی، خیبر کے غزوہ میں قُرمان الظفری کا صحابہ کے ساتھ لڑنا، وغیرہ۔ اس قسم کی تائید دین کا غالباً سب سے بڑا واقعہ وہ ہے جو بیسویں صدی عیسوی میں پیش آیا۔ جدید دور میں مغرب کے مفکرین اور سائنس دانوں نے غیر معمولی محنت کر کے فطرت کے فطرت میں چھپے ہوئے رازوں کو دریافت کیا۔ اس کے نتیجے میں جدید مغربی تہذیب وجود میں آئی۔ یہ تہذیب ایک سیکولر تہذیب تھی اور اس کو وجود میں لانے والے افراد بھی سب کے سب سیکولر تھے۔ نیز اس کا استعمال بھی عام طور پر سیکولر مقاصد کے لیے کیا گیا، لیکن اس جدید تہذیب کے اندر ایک اور عظیم امکان چھپا ہوا تھا۔ یہ دعوتی امکان تھا۔ ان دعوتی مواقع نے تاریخ میں پہلی بار اس بات کو ممکن بنایا کہ زمین پر بسنے والے تمام انسانوں تک خدا کا پیغام موثر انداز میں پہنچا دیا جائے۔ یہی وہ واقعہ ہے جس کو حدیث میں ادخال کلمہ کہا گیا ہے۔ عالمی سطح پر ادخالِ کلمہ کا دعوتی کام پراسرار طور پر نہیں کیا جا سکتا۔ یہ کام قدیم روایتی وسائل کے ذریعے بھی انجام دینا ممکن نہ تھا۔ مثلاً عقبہ بن نافع تابعی (وفات 683ء) گھوڑے پر سوار ہو کر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader