معرفت تخلیق
Urdu book, p. 114
By Maulana Wahiduddin Khan
طرح عملاً یہ ہوا کہ جدید سائنس دعوتِ توحید کی معاون بننے کے بجائے اس کی رقیب (rival) بن گئی۔ بدقسمتی سے لوگوں نے ہائی جیکڈ سائنس (hijacked science) کو جانا، وہ پیور سائنس (pure science) سے بے خبر رہے۔ اس لیے وہ سائنس کے بارے میں منفی ہو گئے، انھوں نے سائنس اور الحاد کو ہم معنی سمجھ لیا۔ بعد کے زمانے کے اخوانِ رسول دوبارہ یہ کارنامہ انجام دیں گے کہ وہ سائنس اور الحاد کے اس اتحاد کو توڑیں اور دوبارہ توحید کو ایک فکری اور نظریاتی سیلاب کا درجہ عطا کر دیں۔ اصحاب رسول کو اس مقصد کے لیے مسلح جہاد کرنا پڑا تھا۔ اخوانِ رسول کے زمانے میں حالات بدل چکے ہوں گے۔ اخوانِ رسول اپنا مقصد فکری جہاد (ideological jihad) کے ذریعے حاصل کریں گے۔ اخوانِ رسول کا رول پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دعوتی مشن کا آغاز 610 عیسوی میں مکہ میں کیا۔ آپ خدا کے آخری رسول تھے۔ آپ کے زمانے میں پہلی بار آپ کے متبعین (followers) کی ایک طاقت ور ٹیم بنی۔ اس ٹیم کو تاریخ میں ، اصحابِ رسول کہا جاتا ہے۔ پیغمبر اسلام کی ایک پیشین گوئی کے مطابق، آخری زمانے میں دوبارہ آپ کے متبعین کی ایک طاقت ور ٹیم بنے گی۔ اس دوسری ٹیم کو حدیث میں اخوانِ رسول کہا گیا ہے۔ یہ دوسری ٹیم خدا کی خصوصی مدد سے آخری زمانے میں اہم دعوتی رول ادا کرے گی۔ ان دونوں جماعتوں کا ذکر قرآن میں موجود ہے۔ قرآن کی سورہ الفتح کی آخری آیتوں کے مطالعے سے یہ حقیقت معلوم ہوتی ہے۔ ان آیتوں کا ترجمہ یہ ہے: "محمد، اللہ کے رسول ہیں۔ اور جو لوگ اُن کے ساتھ ہیں، وہ منکروں کے اوپر شدید ہیں۔ وہ باہم ایک دوسرے کے لیے مہربان ہیں۔ تم ان کو رکوع میں، سجدہ میں دیکھو گے، وہ اللہ کے فضل اور اس کی رضا مندی کی طلب میں لگے رہتے ہیں۔ ان کی نشانی اُن کے چہروں پر ہے، سجدہ کے اثر سے۔ ان کی یہ مثال تو رات میں ہے۔ اور انجیل میں ان کی مثال یہ ہے کہ جیسے کھیتی، اس نے اپنا نکھو نکالا، پھر اس کو مضبوط کیا، پھر وہ اور موٹا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader