معرفت تخلیق
Urdu book, p. 115
By Maulana Wahiduddin Khan
ہوا، پھر وہ اپنے تنے پر کھڑا ہو گیا۔ وہ زارعين کو بھلا معلوم ہوتا ہے، تاکہ وہ ان سے منکروں کو جلائے۔ ان میں سے جو لوگ ایمان لائے اور انھوں نے نیک عمل کیا، اللہ نے ان سے معافی اور ایک بڑے اجر کا وعدہ کیا ہے۔ (29 :48)۔ قرآن کے اس حصے میں دو حوالوں کا ذکر ہے، تورات اور انجیل۔ تورات کے حوالے سے اصحابِ رسول کا وہ انفرادی کردار بیان ہوا ہے جس کا اظہار دو رِ اول میں خود زمانہ رسالت میں پیش آیا۔ انھوں نے خالص جوہر (merit) کی بنیاد پر پیغمبرِ اسلام کو پہچانا اور کسی تحفظ (reservation) کے بغیر آپ کا ساتھ دیا۔ وہ اعلیٰ درجے کے بااصول افراد تھے۔ وہ کامل معنوں میں عبادت گزار تھے۔ وہ اللہ پر اعتماد کرنے والے تھے۔ موجودہ تورات میں ان کے لیے قدسیوں (saints) کا لفظ آیا ہے (Deuteronomy 33:2)۔ انجیل میں حضرت مسیح کی زبان سے اصحابِ رسول کا جو ذکر آیا ہے، وہ درخت کی تمثیل کے روپ میں ہے (13:31-32 Mathew)۔ درخت کی تمثیل سے مراد تاریخی عمل (historical process) ہے۔ اصحابِ رسول کا ایک رول وہ ہے جو انھوں نے اپنے زمانے میں ادا کیا۔ ان کا دوسرا رول وہ تھا جو پر اسس کے روپ میں انجام پایا۔ اصحابِ رسول کے انقلابی عمل نے تاریخ میں ایک پر اسس جاری کیا جو مختلف صورتوں میں بعد کی نسلوں میں آگے بڑھتا رہا۔ چار ہزار سال پہلے ہاجرہ اور اسماعیل کے ذریعے عرب کے صحرا میں ایک پر اسس جاری ہوا تھا۔ اس پر اسس کے نقطۂ انتہا (culmination) کے طور پر ساتویں صدی عیسوی میں اصحابِ رسول (companions of the Prophet) کا گروہ وجود میں آیا۔ اس کے بعد دوسرا تاریخی پر اسس وہ تھا جو ساتویں صدی عیسوی میں اصحابِ رسول کے انقلابی عمل کے ذریعے تاریخ میں شروع ہوا۔ اس دوسرے تاریخی پر اسس کا نقطۂ انتہا (culmination) وہ لوگ ہوں گے جن کو حدیث میں اخوانِ رسول (brothers of the Prophet) کہا گیا ہے۔ احادیث کے مطالعے سے معلوم ہوتا ہے کہ اخوانِ رسول کا یہ گروہ غالباً اُس زمانے میں پیدا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader