Urdu book · کتابِ معرفت

معرفت الہی

Urdu book, p. 11

By Maulana Wahiduddin Khan

دیا جائے اور پھر خدا کے کلمات کو لکھنا شروع کیا جائے تو تمام سمندر ختم ہو جائیں گے، لیکن خدا کے کلمات ختم نہ ہوں گے (لقمان، 27 : 31)۔ جس خدا کے کمالات اتنے زیادہ ہوں ، اس کی دریافت ایک وقتی واقفیت نہیں ہوسکتی ، یہ بلاشبہ دریافت کا ایک لامناہی سفر ہے جس کا آغاز تو متعین ہوسکتا ہے ، لیکن اس کا اختتام متعین نہیں۔ خدا کی معرفت کا یہ مطلب نہیں کہ مراقبہ(meditation) کر کے تصور کی دنیا میں ذاتِ الہی کی جھلکیاں دیکھنے کی کوشش کی جائے۔ اسی طرح وجد(ecstasy) بھی معرفت کے ہم معنی نہیں۔ معرفت ایک اعلیٰ شعوری حالت ہے جو تخلیقاتِ الہیہ میں غور وفکر کے ذریعے حاصل ہوتی ہے۔ قرآن کے مطابق ، معرفت کی تعریف (definition) یہ ہے کہ ایک بندہ، رب العالمین کو اُن عظمتوں کے ساتھ دریافت کرے کہ وہی اُس کے لیے اس کی ساری محبتوں کا مرکز بن جائے (البقرۃ، 2:165) ، اور اس کی خشیت کے جذبات تمام تر اُسی کے ساتھ وابستہ ہو جائیں (التوبۃ، (9:18۔ محبت اور خشیت دونوں ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ ایک بندہ جب تدبر اور تفکر کے ذریعے خالقِ کائنات کو اس کی صفات کمال کے ساتھ دریافت کرتا ہے تو اس کے دل میں بے پناہ حد تک اپنے رب کا اعتراف پیدا ہو جاتا ہے۔ اسی کے ساتھ جب وہ اس حقیقت کو دریافت کرتا ہے کہ دینے والا خدا ہے، اُس کے سوا کوئی اور دینے والا نہیں تو اس کے دل کی گہرائیوں میں یہ اندیشہ پیدا ہو جاتا ہے کہ اگر میں خدا کی رحمتوں سے محروم ہو جاؤں تو زمین و آسمان میں میرا کوئی ٹھکانا نہ ہوگا۔ اللہ تعالیٰ نے انسان کو احسن تقویم (التین ، 4: 95) کے ساتھ پیدا کیا۔ اس کو وہ تمام دماغی صلاحیت عطا کر دی جس کے ذریعے وہ رب العالمین کی معرفت حاصل کر سکے۔ دوسری طرف، خارجی دنیا (nature) کے اندر معرفت کے تمام اجزا مخفی صورت میں رکھ دئے ۔ اب انسان کا یہ کام ہے کہ وہ معرفت کے ان چھپے ہوئے اجزا کو دریافت کرے اور اعلیٰ معرفت کا تجربہ کر کے اپنے اندر ربانی شخصیت (divine personality) کی تعمیر کرے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page