Urdu book · کتابِ معرفت

معرفت الہی

Urdu book, p. 12

By Maulana Wahiduddin Khan

ایمان ایک معرفت قرآن کی سورہ الحجرات میں کچھ اہل ایمان کو خطاب کرتے ہوئے کہا گیا ہے : قَالَتِ الْأَعْرَابُ آمَنَّا ۖ قُلْ لَمْ تُؤْمِنُوا وَلَكِنْ قُولُوا أَسْلَمْنَا وَلَمَّا يَدْخُلِ الْإِيمَانُ فِي قُلُوبِكُمْ (49:14) یعنی اعراب کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے۔ کہو کہ تم ایمان نہیں لائے، بلکہ یوں کہو کہ ہم نے اسلام قبول کیا اور ابھی تک ایمان تمھارے دلوں میں داخل نہیں ہوا۔ دوسری طرف، قرآن کی سورہ المائدہ میں کچھ اور اہل ایمان کا ذکر اس طرح کیا گیا ہے : اور جب وہ اُس کلام کو سنتے ہیں جو رسول پر اتارا گیا ہے تو تم دیکھو گے کہ ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہیں، اِس سبب سے کہ انھوں نے حق کو پہچان لیا۔ وہ پکار اٹھتے ہیں کہ اے ہمارے رب، ہم ایمان لائے۔ پس تو ہم کو گواہی دینے والوں میں لکھ لے۔ اور ہم کیوں نہ ایمان لائیں اللہ پر اور اُس حق پر جو ہمیں پہنچا ہے، جب کہ ہم یہ آرزو رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہم کو صالح لوگوں کے ساتھ شامل کرلے۔ پس اللہ اُن کو اس قول کے بدلے میں ایسے باغ دے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ وہ اُن باغوں میں ہمیشہ رہیں گے۔ اور یہی بدلہ ہے نیک عمل کرنے والوں کا (83-5:85)۔ ان دونوں آیتوں کا مطالعہ کرنے سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ ایمان کی حقیقت کیا ہے۔ وہ کون خوش نصیب لوگ ہیں جن کے ایمان کو اللہ تعالیٰ کے یہاں قبولیت حاصل ہوگی اور وہ ابدی جنتوں میں داخل کئے جائیں گے، جہاں وہ کبھی نہ ختم ہونے والی خوشیوں اور راحتوں میں زندگی گزاریں گے۔ پہلی بات یہ کہ اللہ تعالیٰ کا مطلوب ایمان وہ ہے جو داخل القلب ایمان (49:14) ہو، صرف زبان سے ایمان کے کلمات ادا کر دینا وہ چیز نہیں جس کی بنا پر کوئی شخص اللہ تعالیٰ کے یہاں مومن یا صاحب ایمان شمار کیا جائے۔ زبان سے جو کلمہ ایمان ادا کیا جاتا ہے، وہ درحقیقت آدمی کی طرف سے قبولیت ایمان کا ایک لفظی اظہار ہے۔ خدا کے نزدیک، اصل مطلوب ایمان یہ ہے کہ ایمان کی حقیقت دل کی گہرائیوں میں داخل

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page