Urdu book · کتابِ معرفت

معرفت تخلیق

Urdu book, p. 129

By Maulana Wahiduddin Khan

مکمل طور پر ربانی ڈسپلن کے پابند ہوں، جو اپنے اعلیٰ اوصاف کی بنا پر اس قابل ہوں کہ وہ خدا کے پڑوس میں رہ سکیں، جو اپنی تخلیق کے اعتبار سے انسان، مگر اپنے اوصاف کے اعتبار سے فرشتوں کے مانند ہوں، جو پوری کائنات کا خلاصہ ہوں، جس طرح گلاب کا پھول ایک پورے درخت کا خلاصہ ہوتا ہے۔ یہ خوش قسمت لوگ ابدی جنت میں رہیں گے، لیکن جنت محض عیش و آرام کا مقام نہیں ہوگا، بلکہ وہ کامل معنوں میں نفیس سرگرمیوں کا مقام ہوگا۔ جنت میں عیش و آرام کی حیثیت دراصل خدائی میزبان (divine hospitality) کی ہوگی۔ اہل جنت کا اصل مشن وہ ہوگا جس کو قرآن میں ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: وَأَشْرَقَتِ الْأَرْضُ بِنُورِ رَبِّهَا (39:69)، یعنی اور زمین اپنے رب کے نور سے چمک اٹھے گی۔ نیز وَقِيلَ الْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِينَ (39:75) یعنی کہا جائے گا کہ ساری حمد اللہ کے لیے ہے، عالم کا خداوند۔ یعنی یہ اہل جنت اپنی سرگرمیوں کے ذریعے انوارِ رب کو ظاہر کرنے کا ابدی پر اس س شروع کریں گے۔ جنت کی دنیا میں الحمد للہ کلچر اپنی کامل صورت میں ظہور پذیر ہوگا۔ اہل جنت کے لیے یہ عمل ایک پر لطف سرگرمی (enjoyable activity) ہوگی۔ جنت کی یہ دنیا اتنی زیادہ پر مسرت ہوگی کہ اہل جنت کبھی وہاں تھکن یا اکتاہٹ کا شکار نہ ہوں گے۔ جنت کی اس دنیا کو دوسرے لفظوں میں اسپرپچول سو یلا ئزیشن یا ربانی سو یلا ئزیشن کہا جا سکتا ہے۔ یہ دور ابتدائی طور پر موجودہ دنیا میں شروع ہوا، لیکن موجودہ دنیا ایک محدود دنیا تھی، اس لیے ربانی سو یلا ئزیشن کا فروغ اس دنیا میں صرف محدود طور پر ہو سکا۔ آخرت کی لامحدود دنیا میں اس ربانی سو یلا ئزیشن کا فروغ اپنی آخری صورت میں ہوگا۔ اہل ایمان آلاء اللہ کو جنت کی دنیا میں ابدی طور پر ان فولڈ (unfold) کرتے رہیں گے۔ ہر دن ان کے لیے نئی دریافت کی خوشی کا دن ہوگا۔ یہ سلسلہ ابد تک جاری رہے گا، وہ کبھی ختم نہ ہوگا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page