Urdu book · کتابِ معرفت

معرفت تخلیق

Urdu book, p. 128

By Maulana Wahiduddin Khan

الصالحون کا دور قرآن کی سورہ الانبیاء میں بعد کے زمانے کی ایک پیشین گوئی ان الفاظ میں آئی ہے: وَلَقَدْ كَتَبْنَا فِي الزَّبُورِ مِنْ بَعْدِ الذِّكْرِ أَنَّ الْأَرْضَ يَرِثُهَا عِبَادِيَ الصَّالِحُونَ (21:105)۔ یعنی زبور میں ہم نصیحت کے بعد لکھ چکے ہیں کہ زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہوں گے۔ یہ پیشین گوئی موجودہ بائبل میں ان الفاظ میں ملتی ہے بی شریروں کی نسل کاٹ ڈالی جائے گی اور صادق، زمین کے وارث ہوں گے۔ وہ اس میں ہمیشہ آباد رہیں گے: But the descendants of the wicked shall be cut off. The righteous shall inherit the land, and dwell in it forever. (Psalm 37: 28-29) قرآن کی مذکورہ آیت میں 'الصالحون' سے مراد پوری تاریخ بشری کے منتخب مومنین (selected believers) ہیں۔ یہ واقعہ قیامت کے بعد آخرت کی دنیا میں پیش آئے گا۔ قیامت کے بعد تمام پیدا ہونے والے انسان حشر کے میدان میں اکٹھا کئے جائیں گے۔ خداوند ذوالجلال اور اس کے فرشتے ظاہر ہوں گے۔ قبل از قیامت دور میں ہر ایک کے عمل کے ریکارڈ کے مطابق، اس کے ابدی مستقبل کا فیصلہ کیا جائے گا۔ کچھ لوگ رد کئے ہوئے (rejected) قرار پائیں گے، کچھ لوگوں کو ان کے قول وعمل کے بہتر ریکارڈ کی بنا پر منتخب کیا جائے گا۔ یہ منتخب لوگ ابدی جنتوں میں داخل کئے جائیں گے، جو ہر اعتبار سے ایک کامل دنیا (perfect world) ہوگی۔ اس جنتی دنیا میں ابدی طور پر خوف وحزن کا خاتمہ کر دیا جائے گا۔ یہاں داخل ہونے والی عورتوں اور مردوں کے لیے ہر اعتبار سے، کامل طور پر فل فل منٹ (fulfillment) کا انتظام ہوگا۔ قیامت کے بعد کا جنتی دور ایک آئیڈیل دور ہوگا۔ یہ انسان کی وہ آخری منزل ہوگی جس کے لیے موجودہ دنیا کی تخلیق کی گئی تھی۔ موجودہ دنیا کو بنانا اور یہاں انسان کو آباد کرنا امتحان کے لیے تھا، یعنی عملی زندگی میں امتحان لے کر اُن نادر افراد کا انتخاب کرنا جو اعلیٰ معرفت کی سطح پر جینے والے ہوں، جو مکمل طور پر مثبت شخصیت (positive personality) کے مالک ہوں، جو اختیار کے باوجود

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page