معرفت دعوت
Urdu book, p. 136
By Maulana Wahiduddin Khan
نا انصافی، انتقام، حتیٰ کہ ناحق قتل، وغیرہ۔ اس کی ایک انتہائی مثال قرآن میں آدم کے بیٹوں، ہابیل اور قابیل کی صورت میں بیان کی گئی ہے۔ ہابیل اور قابیل دونوں سگے بھائی تھے۔ قابیل کسی بات پر اپنے بھائی ہابیل سے غصہ ہو گیا اور بے رحمی کے ساتھ اس کو مار ڈالا (المائدہ، 27: 30)۔ ابتدائی دور کے اس واقعے کے بعد اللہ تعالیٰ نے انسان کے لیے ایک قانون مقرر فرمایا۔ اس قانون کا ذکر قرآن کی سورہ المائدہ میں ان الفاظ میں آیا ہے: مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ كَتَبْنَا عَلَى بَنِي إِسْرَائِيلَ أَنَّهُ مَنْ قَتَلَ نَفْسًا بِغَيْرِ نَفْسٍ أَوْ فَسَادٍ فِي الْأَرْضِ فَكَأَنَّمَا قَتَلَ النَّاسَ جَمِيعًا وَمَنْ أَحْيَاهَا فَكَأَنَّمَا أَحْيَا النَّاسَ جَمِيعًا وَلَقَدْ جَاءَتْهُمْ رُسُلُنَا بِالْبَيِّنَاتِ ثُمَّ إِنَّ كَثِيرًا مِنْهُمْ بَعْدَ ذَلِكَ فِي الْأَرْضِ لَمُسْرِفُونَ (5:32)۔ یعنی اسی سبب سے ہم نے بنی اسرائیل پر یہ لکھ دیا کہ جو شخص کسی کو قتل کرے، بغیر اس کے کہ اُس نے کسی کو قتل کیا ہو یا اُس نے زمین میں فساد برپا کیا ہو، تو گویا اُس نے سارے آدمیوں کو قتل کر ڈالا، اور جس نے ایک شخص کو بچایا تو گویا اُس نے سارے آدمیوں کو بچا لیا۔ اور ہمارے پیغمبر ان کے پاس کھلے ہوئے احکام لے کر آئے، اس کے باوجود اُن میں سے بہت سے لوگ زمین میں زیادتیاں کرتے ہیں۔ آدم اور حوا سے انسان کی نسل شروع ہوئی۔ توالد و تناسل کے نتیجے میں انسان کی آبادی بڑھتی رہی۔ دھیرے دھیرے انسان زمین کے مختلف علاقوں میں آباد ہو گئے۔ اللہ تعالیٰ نے شروع ہی سے انبیاء کے ذریعے ہدایت کا سلسلہ شروع کیا۔ ہر مقام پر اور ہر گروہ میں مسلسل انبیاء آتے رہے۔ انھوں نے پرامن جدوجہد کے ذریعے لوگوں کو خدا کا پیغام پہنچایا۔ توحید اور امن اس پیغامِ نبوت کے دو خاص اجزا تھے توحید، اور امن۔ خدا کی نسبت سے، انسان سے یہ مطلوب تھا کہ وہ ایک اللہ کو اپنا الہ (معبود) بنائے اور اُس کی عبادت کرے، وہ اللہ کے حکموں کے مطابق، دنیا میں زندگی گزارے۔ یہ بات پورے قرآن میں پھیلی ہوئی ہے، خاص طور پر سورہ الاعراف (7:59-128) اور سورہ الشعراء (180-26:105) میں اس کو دیکھا جا سکتا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader