معرفت دعوت
Urdu book, p. 137
By Maulana Wahiduddin Khan
خدا کی طرف سے آنے والی پیغمبرانہ ہدایت کا دوسرا پہلو یہ تھا کہ انسان اس دنیا میں دوسروں کے درمیان امن کے ساتھ زندگی گزارے۔ خدا کے نزدیک امن کا تصور کیا ہے، وہ یہ ہے کہ انسان اس دنیا میں فطرت کے نقشے کے مطابق رہے۔ خالق نے فطرت کا جو نظام بنایا ہے، وہ اس میں کوئی بگاڑ پیدا نہ کرے۔ یہ حکم قرآن میں ان الفاظ میں دیا گیا ہے: قَدْ جَاءَتْكُمْ بَيِّنَةٌ مِنْ رَبِّكُمْ فَأَوْفُوا الْكَيْلَ وَالْمِيزَانَ وَلَا تَبْخَسُوا النَّاسَ أَشْيَاءَهُمْ وَلَا تُفْسِدُوا فِي الْأَرْضِ بَعْدَ إِصْلَاحِهَا (85:7) یعنی تمھارے پاس تمھارے رب کے پاس سے کھلی ہوئی دلیل آ چکی ہے، تو تم ناپ اور تول پوری کرو اور لوگوں کو ان کی چیزیں گھٹا کر مت دو اور زمین میں فساد نہ ڈالو، اس کی اصلاح کے بعد۔ امن (peace) ہر قسم کی تعمیری سرگرمیوں کے لیے لازمی طور پر ضروری ہے۔ امن کیا ہے، امن دراصل کوئی قائم کرنے کی چیز نہیں۔ فطرت کا نظام تمام تر امن ہی پر مبنی ہے۔ خالق نے جو دنیا بنائی ہے، اس میں خود تخلیقی نظام کے تحت، امن کی حالت قائم ہے۔ انسان سے یہ مطلوب ہے کہ وہ امن کی اس فطری حالت کو برقرار رکھے۔ انسان اگر فطرت کے اس نظام کو برقرار رکھے تو اس کا نام اصلاح ہے، اور انسان اگر فطرت کے اس نظام میں خلل ڈالے تو اس کا نام فساد ہے۔ قرآن میں وارنگ کے طور پر بتایا گیا ہے کہ انسان اگر فطرت کے نظام میں خلل ڈالے تو اس کا نتیجہ یہ ہوگا کہ دنیا کا ہر حصہ آلودگی (pollution) سے بھر جائے گا۔ ہوائی آلودگی (air pollution) اور آبی آلودگی (water pollution) جیسی چیزوں کے ذریعے دنیا انسان کے لیے رہنے کے قابل نہیں رہے گی۔ انسانی عمل کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے اس فساد کے خلاف یہ انتباہ (warning) قرآن کی حسب ذیل آیت میں موجود ہے : ظَهَرَ الْفَسَادُ فِي الْبَرِّ وَالْبَحْرِ بِمَا كَسَبَتْ أَيْدِي النَّاسِ لِيُذِيقَهُمْ بَعْضَ الَّذِي عَمِلُوا لَعَلَّهُمْ يَرْجِعُونَ (41: 30)۔ یعنی خشکی اور تری میں فساد پھیل گیا لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے، تا کہ اللہ مزا چکھائے اُن کو اُن کے بعض اعمال کا، شاید وہ باز آئیں۔ پچھلی تاریخ میں آنے والے تمام پیغمبروں نے انسانی نسلوں کو ان دونوں حقیقتوں (توحید

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader