Urdu book · کتابِ معرفت

معرفت دعوت

Urdu book, p. 157

By Maulana Wahiduddin Khan

اسلام ایک دعوتی مذہب کی حیثیت رکھتا تھا۔ مگر بعد کی نسلوں میں دھیرے دھیرے دعوتی ذہن کم ہوتا چلا گیا، یہاں تک کہ جب آٹھویں صدی میں مسلمانوں کا سیاسی ایمپائر قائم ہو گیا تو مسلمانوں کے اندر دعوتی نشانہ سرے سے ختم ہو گیا۔ اب صرف ایک چیز اُن کا نشانہ بن گئی اور وہ تھا سیاسی اقتدار۔ اسی طرح پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے میں اسلام کا کوئی کلچر نہیں تھا۔ اُس زمانے میں رسول اور اصحاب رسول اسلام کو ایک مشن کے طور پر اختیار کئے ہوئے تھے۔ پھر جب اسلام مختلف ملکوں میں پھیلا اور دوسری قوم کے لوگوں سے مسلمان کے تعلقات قائم ہوئے۔ اس کے بعد مسلسل انٹرایکشن (interaction) کے ذریعہ مسلمانوں کے درمیان ایک کلچر بننے لگا۔ یہ عمل جاری رہا، یہاں تک کہ وہ چیز وجود میں آگئی جس کو مسلم کلچر کہا جاتا ہے۔ موجودہ زمانے میں مسلمانوں کے درمیان یہ تبدیلیاں پوری طرح واقع ہو چکی ہیں، یہاں تک کہ رسول والا اصل اسلام مسلمانوں کے لیے اب اجنبی (غریب) بن چکا ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ہم اسلام پر ہیں، حالاں کہ باعتبار حقیقت وہ ایک بدلے ہوئے اسلام پر ہیں، نہ کہ اصل اسلام پر۔ اب اگر چہ اخوان رسول کا رول ادا کرنے کا وقت آ گیا ہے، لیکن اخوان رسول کا رول ادا کرنے کی توفیق صرف اُن لوگوں کو ملے گی جو رسول اور اصحاب رسول والے اسلام کو دوبارہ دریافت (rediscover) کریں، موجودہ مسلمانوں کا زمانہ اور پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانے کے درمیان جو دوری (distance) واقع ہو چکی ہے، اس کو عبور کر کے وہ دوبارہ عہد صحابہ میں پہنچیں۔ اخوان رسول کا رول ادا کرنے والے اگرچہ اکیسویں صدی میں ہوں گے، لیکن اپنی فکر اور اپنی سیرت اور اپنے مشن کے اعتبار سے وہ اپنے آپ کو اصحاب رسول کے ہم زمانہ ثابت کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے۔ اصحاب رسول اور اخوان رسول کا رول اگرچہ زمانے کے اعتبار سے مختلف ہے، لیکن اپنی نوعیت کے اعتبار سے، دونوں کا رول ایک ہے۔ سیرت رسول کے موضوع پر راقم الحروف کی ایک کتاب ’’پیغمبر انقلاب‘‘ (صفحات 208) پہلی بار 1982 میں چھپی۔ اس کتاب کے آخری باب میں دو بڑے دعوتی گروہوں کا ذکر تھا جو

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page