Urdu book · کتابِ معرفت

معرفت دعوت

Urdu book, p. 156

By Maulana Wahiduddin Khan

پہلی صفت کو سمجھنے کے لیے اس حدیث رسول کا مطالعہ کیجئے: بَدَأَ الْإِسْلَامُ غَرِيبًا، وَسَيَعُودُ كَمَا بَدَأَ غَرِيبًا، فَطُوبَى لِلْغُرَبَاءِ (صحیح مسلم، حدیث نمبر 145)۔ یعنی اسلام شروع ہوا تو وہ اجنبی تھا۔ اسی طرح دوبارہ اسلام اجنبی ہو جائے۔ پس مبارک باد ہو اجنبیوں کے لیے۔ اس حدیث رسول میں بتایا گیا ہے کہ عام قانون فطرت کے مطابق، مسلمانوں کی اگلی نسلوں کے اندر زوال (de-generation) پیدا ہو گا۔ وہ بدستور اسلام کا نام لیں گے، لیکن وہ حقیقی اسلام سے نا آشنا ہو چکے ہوں گے۔ وہ لوگ قابل مبارک باد ہیں جو بعد کے زمانے میں اصل اسلام کو دریافت کریں اور از سرِ نو اس پر قائم ہو جائیں۔ بعد کے مسلمانوں میں اس قسم کا زوال کیوں پیش آئے گا۔ اس کا سبب رسول کے زمانے سے دوری ہے۔ اصل یہ ہے کہ بعد کے زمانے کے مسلمانوں کے لیے اسلام کو سمجھنے کا قریبی ماخذ رسول نہیں ہوتا، بلکہ بعد کے زمانے کے اکابر اُن کے لیے اُن کے دین کا قریب ماخذ بن جاتے ہیں، جن کو قرآن میں احبار ورہبان (التوبۃ، 9:31) کہا گیا ہے۔ صحابہ کے لیے ان کے دین کا قریبی ماخذ رسول تھا۔ تابعین کے لیے اُن کے دین کا قریبی ماخذ صحابہ بن گئے۔ اس کے بعد تبع تابعین کے لیے اُن کے دین کا قریبی ماخذ تابعین بن گئے۔ اسی طرح ہر نسل کے لیے اس کے دین کا قریبی ماخذ بدلتا رہا۔ یہ تبدیلی ہمیشہ تدریجی طور پر ہوتی ہے۔ اس بنا پر وہ غیر محسوس طور پر جاری رہتی ہے۔ اس کا اندازہ لوگوں کو صرف اُس وقت ہوتا ہے جب کہ بڑھتے بڑھتے وہ بڑی تبدیلی تک پہنچ جائے۔ مثلاً رسول سے جو دین صحابہ کو ملا، اُس میں سارا زاور اسپرٹ (spirit) پڑتا۔ اس کے بعد ہر نسل میں اس کے اندر تبدیلی آتی رہی، یہاں تک کہ عباسی دور میں جب فقہاء کا زمانہ آیا تو اب سارا زور مسائل، بالمفاض دیگر فارم (form) پر دیا جانے لگا۔ رسول کے زمانے میں، دین مبنی بر روح (spirit-based) تھا۔ فقہاء کے زمانے میں، دین مبنی بر مسائل (form-based) بن گیا ہے۔ اسی طرح رسول کے زمانے میں اسلام کا خارجی نشانہ صرف دعوت تھا۔ اُس زمانے میں

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page