Urdu book · کتابِ معرفت

معرفت دعوت

Urdu book, p. 159

By Maulana Wahiduddin Khan

انتہا ہوتا ہے۔ اصحاب رسول اپنے سے پہلے کی ڈھائی ہزار سالہ تاریخ کا نقطۂ انتہا تھے، اسی طرح اخوان رسول اپنے سے پہلے کے ایک ہزار سال سے زیادہ لمبے تاریخی عمل کا نقطۂ انتہا ہوں گے۔ پہلے عصابہ (اصحاب رسول) نے اپنا مطلوب رول پیغمبر کی رہنمائی میں ادا کیا۔ بار بار ایسا ہوا کہ صحابہ پر یہ امر واضح نہ تھا کہ پیش آمدہ صورت حال میں انھیں کیا کرنا چاہیے۔ پیغمبر پر خدا نے وحی بھیجی اور پیغمبر نے اس کے مطابق صحابہ کی رہنمائی کی۔ اس کی ایک مثال معاہدہ حدیبیہ کا واقعہ ہے۔ اُس وقت صحابہ میں سے کسی بھی شخص کو یہ معلوم نہ تھا کہ اس نازک موقع پر انھیں کیا کرنا چاہیے۔ آخرکار، پیغمبر کی رہنمائی میں فیصلہ کیا گیا۔ اسی طرح صحابہ کا پورا رول پیغمبر کی رہنمائی میں انجام پایا۔ دوسرے عصابہ (اخوان رسول) کا معاملہ اس سے مختلف ہے۔ اخوان رسول کا رول تمام تر اجتہادی رول ہوگا۔ اُن کو یہ کرنا ہوگا کہ وہ حالات کے گہرے مطالعے کے ذریعے اپنا رول دریافت کریں اور اُس کے مطابق عمل کر کے اخوان رسول کے درجے کے مستحق ٹھہریں ۔ اس معاملے میں اخوان رسول کے لیے صرف دو ہی چیزیں مددگار ہو سکتی ہیں، وہ دو چیزیں ہیں دعا، اور اجتہاد۔ راقم الحروف نے اس موضوع پر بہت زیادہ غور کیا ہے۔ اس تمام متعلق لٹریچر کو پڑھنے کی کوشش کی ہے۔ اسی کے ساتھ لمبی مدت تک اپنے دن اور اپنی راتوں کو دعامیں گزارا ہے۔ ان مسلسل کوششوں کے بعد ذاتی طور پر میں اس نتیجے پر پہنچا ہوں کہ اکیسویں صدی میں وہ تمام حالات پوری طرح ظاہر ہو چکے ہیں جو اخوان رسول کو اپنا تاریخی رول ادا کرنے کے لیے درکار ہیں۔ میرے اندازے کے مطابق، اب انتظار کا وقت ختم ہو چکا ہے اور عمل کا وقت آخری طور پر آ چکا ہے۔ اخوان رسول کے لیے خوش خبری قرآن کی سورہ الفیل (105) اور سورہ قریش (106) دو توأم (twin) سورتیں ہیں۔ یہ دونوں سورتیں تقریباً ایک ہی وقت میں مکی دور کی ابتدا میں نازل ہوئیں ۔ یہ دونوں صورتیں اصحاب رسول کے لیے خوش خبری کی حیثیت رکھتی تھیں۔ ان سورتوں میں یہ بتایا گیا تھا کہ اصحاب رسول کو اپنے زمانے میں جو رول ادا کرنا ہے، اُس میں خدا پوری طرح اُن کے ساتھ ہے۔ اصحاب رسول خدا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page