Urdu book · کتابِ معرفت

معرفت دعوت

Urdu book, p. 160

By Maulana Wahiduddin Khan

کے ایک عظیم منصوبے کا حصہ ہیں۔ خدا نے اُن کے لیے پیشگی طور پر اسباب مہیا کردیئے ہیں جن کی تائید سے وہ اپنے مطلوب رول کو بخوبی طور پر ادا کرسکیں۔ سورہ الفیل میں کعبہ کے تحفظ کا ذکر ہے۔ کعبہ دراصل وہ تاریخی عمارت تھی جس کے لیے یہ مقدر تھا کہ وہ اسلام کی تحریک توحید کا عالمی مرکز بنے۔ اسی مقصد کے تحت اللہ تعالیٰ نے کعبہ کو معجزاتی طور پر ابرہا کے حملے سے بچایا۔ اس کے بعد ہی یہ ممکن ہوا کہ اصحابِ رسول، کعبہ اور بلدِ امین کو مرکز بنا کر مبنی بر توحید انقلاب برپا کریں۔ سورہ قریش میں، قریش کے لیے خدا کی خصوصی نصرت کا ذکر ہے۔ یہ قریش کون لوگ تھے، یہ اسماعیلی نسل کے وہ منتخب لوگ تھے جو دراصل مستقبل کے اصحابِ رسول تھے۔ خدا کو مطلوب تھا کہ وہ محفوظ رہیں اور آخر کار پیغمبر اسلام صلی اللہ علیہ وسلم کا ساتھ دے کر وہ تاریخی رول ادا کریں جو اُن کے لیے مقدر ہو چکا ہے۔ قرآن کے ساتھ خدا کا جو خاص معاملہ ہوا، اُس میں سے ایک معاملہ وہ تھا جس کو سورہ قریش کے ان الفاظ میں بیان کیا گیا ہے: اَلَّذِيۡٓ اَطۡعَمَہُمۡ مِّنۡ جُوۡعٍ وَّاٰمَنَہُمۡ مِّنۡ خَوۡفٍ (106:4)۔ یعنی اُن کے لیے خصوصی طور پر رزق کی فراہمی اور خصوصی طور پر امن کی فراہمی کا انتظام کیا گیا۔ قرآن کی ان دونوں سورتوں میں براہِ راست طور پر اُس تاریخی معاملے کا ذکر ہے جو اصحابِ رسول کے ساتھ پیش آیا۔ اسی کے ساتھ بالواسطہ طور پر ان دونوں سورتوں میں اُس واقعے کی طرف بھی اشارہ ہے جو بعد کے اخوانِ رسول کے ساتھ پیش آنے والا تھا، یعنی اخوانِ رسول کے لیے ایک طرف مرکز عمل کی فراہمی اور دوسری طرف مواقع کار کے دروازے کا کھل جانا۔ غور کرنے سے معلوم ہوتا ہے کہ اکیسویں صدی میں نصرتِ الہیٰ کا یہ وعدہ امکانی طور پر ایک واقعہ بن چکا ہے۔ اصحابِ رسول کے بارے میں حضرت عمر فاروق نے کہا تھا: مَنۡ سَرَّہُ اَنۡ يَكُوۡنَ مِنۡ تِلۡکَ الۡاُمَّةِ فَلْيُؤَدِّ شَرۡطَ اللَّهِ فِيۡهَا (کنز العمال فی سنن الاقوال والافعال، حدیث نمبر 4293)۔ یہ بات جو عمر فاروق نے قدیم زمانے میں اصحابِ رسول کے بارے میں کہی تھی، اُسی کو موجودہ زمانے میں اس طرح کہا جاسکتا ہے کہ جو لوگ اخوانِ رسول کی جماعت میں شامل ہونے کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page